اور اگر انسان جلدی کرے گا اور خدا تعالیٰ کی چنداں پروانہ کرے گا یا معمولی طور سے لا پر واہی کرے گا تو پھر یاد رکھو کہ خدا بھی غنی عن العالمین ہے ۔ کیا کوئی ہے جو خد ا ئی قانون کو مٹا سکے جو کہ اس نے فضل کے حصول کے واسطے بنادیا ہے کہ فضل سے حصول کے امیدوار از راہ نیاز اس دروازے سے داخل ہوں۔ جب ان کی امیدیں پوری ہو گی رونہ اگر تمام عمر بھی بھٹکتے پھریں بجز اس اصلی راہ کے ( جو اتباع نبیﷺ ) ہر گز ہر گز منزل مقصود کو نہیں پہنچ سکیں گے ۔ خدا تعالیٰ نے ایک را ہ بتادی ہے ۔ ہلاک ہو گا وہ جو پیروی نہ کرے گا۔ مگر لوگ باوجسد سمجھانے کے نہیں سمجھتے اور لاپرواہی کرتے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اس راہ کو جس کی ہم ان کو دعوت دیتے ہیں ۔ آزمالیں کہ آیا ہم سچ کہتے ہیں ۔ یا جھوٹ ۔ ہماری طرف سے تو خدا بحث کررہا ہے اور اس نے ہماری تائید میں آج تک ہزاروں نشان بھی دکھائے کون شخص ہے جس نے ہماری کوئی نہ کوئی نشان نہ دیکھا ہو ابھی ایک انگریز امریکہ سے ہمارے پاس آیا تھا۔ وہ خود اقرار کر گیا ہے کہ وادقعی میں ڈوئی آپ کی پیشگوئی کے عین منشاء کے مطابق مر امگر وہ تو خود براتھا۔ غرض ایک ڈوائی کیا ہزاروں روشن اور زبر دست نشان موجود ہیں ۔ خدا تعالیٰ کسی کا محکوم تو ہے نہیں وہ چاہے مردے زندہ کرے یا زندوں کو مارے۔ غرض دنیا کے کاموں کے واسطے اپنی عمریں دولت صحت وقت آپ لوگ خرچ کرتے ہیں ۔ آخر دین کا بھی حق ہے کہ اس کے لئے بھی کوئی وقت عمر دولت خرچ کی جاوے آپ ولایت میں ساڑھے تین سال رہے ۔ مگر کہتے ہیں کہ تین کو جانے دیں وہ باقی کی ساڑھ ہی ہمارے پاس رہ جاویں ۔ پھر دیکھیں کہ آپ کی معلومات میں کیسا مفید اضافہ ہوتا ہے ۔ خاتم النبیین کے معنی سوال کیا گیا کہ خاتم النبیین کے کیا معنی ہیں ؟ فرمایا:۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی صاحب شریعت نہیں آو ے گا اور یہ کہ کوئی ایسا نبی آپ کے بعد نہیں آسکتا جو رسول اکرم ﷺ کی مہر آپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔ رئیس المتصوفین حضرت ابن عربی کہتے ہیں کہ نبوت کا بند ہوجانا اور اسلام کا مرجانا ایک ہی بات دیکھو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں تو عورتوں کو بھی الہام ہوتا تھا۔ چنانچہ خود حضرت موسیٰ ؑ کی ماں سے بھی خدا تعالیٰ نے کلام کیا ہے ۔ وہ دین ہی کیاہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اس کے برکات اور فیوض آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں ۔ اگر اب بھی خدا اسی طرح سنتا ہے جس طرح پہلے زمانہ میں سنتا تھا اور اسی طرح سے دیکھتا ہے جس طرھ پہلے دیکھتا تھا تو کیا وجہ ہے کہ جب پہلے زمانہ میں سننے اور دیکھنے کی طرح صفت تکلم بھی موجود تھی تواب کیوں منقود ہو گئی ؟اگر