دیکھ رہا ہے تو بھلا پھر ممکن ہے کہ کوئی گناہ اس سے سرزد ہو سکے ۔ ہر گز نہیں ۔یہ ایک فطرتی قاعدہ ہے کہ جب یقین اور قطعی علم ہو کہ اس جگہ قدم رکھنا ہلاکت ہے یا ایک سوراخ جس میں کالاسانپ ہو اور یہ خود اسے دیکھ بھی لیوئے تو کیا اس میں انگلی ڈال سکتا ہے ۔ ہر گز نہیں ۔ غرض یہ فطرت انسانی میں ہی رکھا گیا ہے کہ جہاں اس کو ہلاکت کا یقین ہوتا ہے اس جگہ سے بچتا ہے پرہیز کرتا ہے ۔ جب تک اس درجہ تک خدا تعالیٰ کی معفت نہ ہو جاوے اور یہ یقین پیدا نہ ہو جاوے کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ ایک بھسم کر دینے والی آگ ہے یا ایک خطرناک زہر ہے تب تک حقیقت ایمان کو نہیں سمجھا گیا اور بغیر ایسے کامل یقین اور معرفت کے پھر ایمان بھی ادھور ا ایمان ہے ۔ وہ ایمان جس کا اعمال پر بھی اثر نہ ہو۔ یا جو ایمان امتحانی حالات میں ذرابھی تبدیلی پیدا نہ کر سکے کس کام کا ایمان ہے اور اس کی کیا فضیلت ہو سکتی ہے ۔
جو لوگ خیال کرتے ہیں کہ دنیا کے کاروبار میں آرام سے زندگی بھی بسر کرتے رہیں ۔ اور خدا بھی مل جاوے اور انسان پاک بھی ہو جاوے اور اسے کوئی محنت اور کوشش نہ کرنی پڑے یہ بالکل غلط خیال ہے ۔ کل انبیاء اولیائ۔ اتقیاء اور صالحین کا یہ ایک مجموعی مسئلہ ہے کہ پاک کرنا خدا کا کا م ہے اور خدا کے اس فضل کے جذب کے واسطے اتباع نبی کریم ﷺ از بس ضروری اور لازمی ہے جیسا کہ فرماتا ہے ۔ قل ان کنتم تحبون اللہ تاتبعونی یحببکم اللہ ( ال عمران :۳۲)سورج دنیا میں موجود ہے مگر چشم بینا بھی تو چاہیے ۔
خدا تعالیٰ کا قانون قدرت لغو اور بے فائدہ نہیں ہے ۔ جو ذرائع کسی امر کے حصول کے خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں ۔ آخر انہیں کی پابندی سے وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔ کان سننے کے واسطے خدا بنائے ہیں ۔ مگر دیکھ نہیں سکتے ہیں ۔ آنکھ جو دیکھنے کے واسطے بنائی گئی ہے وہ سننے کاکام نہیں کر سکتی ۔ بس اسی طرح خدا تعالیٰ کے فضل کے فیضان کے حصول کے واسطے بنائی گئی ہے وہ سننے کاکام نہیں کر سکتی۔ بس اسی طرح خدا تعالیٰ کے فضل کے فیضان کے حصول کی جو راہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے ۔ اس سے باہر رہ کر کیسے کوئی کامیا ب ہو سکتا ہے ۔ حقیقی پاکیزگی اور طہارت ملتی ہے ۔ اتباع نبی ﷺ سے کیونکہ خود خدا نے فرمادیا ہے کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو رسول ﷺ کی پیروی کرو ۔ پس وہ لوگ جو کہتے ہین کہ ہمیں کسی نبی یا رسول کی کیا ضرورت ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کو باطل کرنا چاہتے ہیں ۔
خد اتعالیٰ فرماتا ہے کہ تم پاک نہیں ہو کستے جب تک کہ میں کسی کو پاک نہ کرو۔ تم اندھے ہو مگر جسے میں آنکھیں دوں ۔ تم مردے ہو مگر جسے میں زندگی عطا کروں پس انسان کو چاہیے کہ ہمیشہ دعا میں لگا رہے اور اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی سچی تڑپ اور سچی خواہش پیدا کرے ۔ اور خدا تعالیٰ کی محبت کی پیاس د ل میں پیدا کرے تاکہ پھر خدا تعالیٰ کا فیضان بھی اس کی نصرت کرے اور اسے قدرت نمائی سے اٹھائے ۔ خدا تعالیٰ کی تلاش میں اور اس کی مرضی کے ڈھونڈنے میں فنا ہو جاوے تاخدا پھر اسے زندہ کر ے اور شربت وصل پلاوے