نہ کہ تم نے ۔ غرض ترک شر کی یہ ایک مثال ہے مگر یادرکھو کہ خدا تعالیٰ کے سامنے ایسی مثال کوئی پیش نہیں کرسکتا ۔ ہوہاں تو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ ترک ذنوب کو اللہ تعالیٰ نے شربت کا فوری کی ملونی سے تشبیہ دی ہے ۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ انسان کو شربت زنجبیلی پلایا جاوے ۔ زنجبیل سونٹھ کو کہتے ہیں ۔ زنجبیل مرکب ہے لفظ زنا اورجبل سے زنجبیل کی تاثیر ہے کہ حرات عزیزی کو بڑھاتی ہے ۔ اور لغوی معنے اس کے ہیں پہاڑ پر چڑھنا ۔ اس میں جو نکتہ رکھا گیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ جس طرح پہاڑ پر چڑھنا مشکل کام ہے اور وہ اس مقی چیز کے استعمال سے آسان ہو جاتا ہے اسی طرح روحانی نیکی کے پہاڑ پر چڑھنا بھی سخت دشوا ر ہے ۔ وہ روحانی شربت زنجبیل سے آسان ہو جاتا ہے ۔ خالص اعمال محض لللہ اخلاص اور ثواب کے ماتحت بجالانا بھی ایک پہاڑ ہے اور سخت دشوار گذار گھاٹی سے مشابہ ہے ۔ ہر ایک پائوں کا یہ کام نہیں کہ وہاں پہنچ سکے ۔ دیکھو دنیوی امور میں تو ایک ظاہر نتیجہ مدنظر ہوتا ہے ۔ اور امر مخصوس کے واسطے کوشش کی جاتی ہے اور ضمیر میں ایک خاص غرض اور مقصد مدنظر رکھ کر محنت کی جاتی ہے اور کامیابی کے واسطے کس قدر جان توڑ کوشش کی جاتی ہے ۔ حصول عزت اور مدارج کے پانے کے واسطے کیسی کیسی جانکاہ سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں ۔ کہ بعض اوقات انسان ان محنتوں کی وجہ سے پاگل اور مجنون اوربعض اوقات ایسے عوار ض میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ کہ سل اور وق وغیرہ امراض اس کے لاحق حال ہو جاتی ہیں جب دنیوی امتحانات کی گھاٹیاں ایسی مشکل ہیں تو پھر دینی اور روحانی مقاصد کی گھاٹیاں جن کے نتائج ابھی ایک قسم کے پردہ غیب میں ہیں اور بعض ظنی طبائع ان کے وجود اور عدم وجود میں بھی فیصلہ نہیں کر سکتے ان کے حصول کے واسطے پھر کیسی کیسی محنت اور کوشش کی ضرورت ہے ۔ یہ خیال کر لینا کہ ہم ایک پھونک سے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں ۔ اور صرف لسانی اقرار سے ہی پاک ہو سکتے ہیں ۔ یہ ان لوگوں کا خیال ہے جہنوں نے اصلاح نہ کبی دیکھی اور نہ سنی ۔ پاکیزگی کے مراحل بہت دور ہیں ۔ یادر کھو کہ پاکیزگی کے مراحل بہت دور ہیں اور وہ ان خیالات سے بالاترہیں۔ صرف پاکیزگی حاصل کرنا اور سچے طور سے صغائر کبائر سے بچ جانا ان لوگوں کا کام ہے جو ہروقت خدا کو آنکھ کے سامنے رکھتے ہیں ۔ اور فرشتہ سیرت بھی وہی لوگ ہو سکتے ہیں ۔ دیکھو ایک بکری کو اگر ایک شیر کے سامنے باند ھ دیں تو وہ اپنا کھانا پینا ہی بھول جاوے چہ جائیکہ وہ ادھر ادھر کھیوں میں منہ مار ے اور لوگوں کی محنت اور جانفشانیوں سے پیدا کی ہوئی کھیتیوں سے کھاوے ۔ پس یہی حال انسان کا ہے اگر اس کا یقین ہو کہ میں خدا تعالیٰ کو دیکھو رہا ہو ں یا کم از کم خدا تعالیٰ مجھے