پیالہ پینے کے برابر ہے ۔یادر کھو کہ صرف ترک شر ہی نیکی نہیں ہے ۔ نیکی اس میں ہے کہ ترک شر کے ساتھ ہی کسب خیر بھی ہو ۔ ترک گناہ میں جب انسان اس درجہ تک ترقی کر جاوے تو پھر چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق سنت رسول پر بڑی سرگرمی سے نیک اعمال کو بجا لاوے اور کوئی روک اس کی طبیعت میں پیدا نہ ہو اور انشراح صدر سے نیکی کرنے پر قادر ہو جاوے۔ دیکھو بعض لوگ فطرتاً ہی ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں بعض قسم کے معاصی کے ارتکاب کی طاقت اورمادہ ہی نہیں ہوتا۔ کیا ایک ایسا شخص جس کو قوت رجو لیت دی ہی نہیں گئی یہ شیخی مار سکتا ہے کہ میں زنا نہیں کرتا ۔ یا وہ جس کو دن بھر میں دو پیسے کی روٹی بھی مشکل سے میسر آتی ہے ۔ دعویٰ کر سکتا ہے ۔ کہ میں شراب نہیں پیتا ۔ یا ایک ضعیف ناتواں کس مپرس جو کہ خود ہی ذلیل وخوار پھراتا ہے کہہ سکتا ہے کہ میں ہمیشہ صبرو تحمل اور بردباری کرتا ہوں اور کسی کا مقابلہ نہیں کرتا۔ عفو کرتا ہوں ۔ غر ض بعض لوگ فطرتاً ہی ایسے پیدا ہوتے ہیں ۔ کہ وہ بعض گناہوں پر قادر ہی نہیں ہو سکتے ۔ ممکن ہے کہ بعض سادہ لوح انسان ایسے بھی ہوں کہ جہنوں نے عمر بھر میں کوئی بھی گناہ نہ کیا ہو ۔پس صرف تک ذنوب ہی نیکی کی شرط نہیں بلکہ کسب خیر بھی اعلیٰ جزو ہے ۔ کوئی انسان کامل نہیں ہو سکتا۔ جب تک دونو قسم کے شربت پی نہیں لیتا۔ سورہ دہر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایک شربت کا فوری ہوتا ہے اور دوسراشربت زنجیبلی ہوتا ۔ مقربوں اور برگزیدہ لوگوں کو دونو شربت پلائے جاتے ہٰں ۔ کافوری شربت کے پینے سے انسا ن کا دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور گناہ کے قویٰ ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں ۔ کافور میں گندے مواد کے دبانے کی تاثیر ہے ۔ پس وہ لوگ جن کو شربت کافوری پلایا جاتا ہے ۔ ان کے گناہ والے قویٰ بالکل دب ہی جاتے ہین اور پھر ان سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہی نہیں اور ایک قسم کی سکنیت جس کو شانتی کہتے ہیں میسر آجاتی ہے اور ایک نور پانی کی طرح اترتا ہے جو ان کے سینے میں سے سارے گندوں کو دھو ڈالتا ہے ۔ اور سفلی زندیگ کے تمام تعلقات ان سے الگ کر دیے جاتے ہیں ۔ اور گناہ کی آگ کی بھڑک ہمیشہ کے واسطے ٹھنڈی پڑ جاتی ہے ، مگر یادرکھو صرف یہی امر نیکی اور خوبی نہیں ہے ۔ ایک شخص کا ہمیں واقعہ یاد ہے کہ اس کی کسی نے دعوت کی اور کھانا وغیرہ کھلا چکنے کے بعد میزبان نے اپنے مہمان کی خدمت مین عذر کیا کہ میں جیسا کہ آپکی خدمت کا حق تھاادا نہیں کر سکا یعنی جیسا کہ قائدہ ہے اپین طرف سے معزرت کی ۔ مگر مہمان کچھ ایسا شوریدہ مغزتھا کہ میزبان کی اس بات سے بھڑک اٹھا اور کہنے لگا کہ کیا تم مجھ پر اس طرح سے اپنا احسان جتانا چاہتے ہو۔ تمہارا نہیں بلکہ میرا تم پر بہت بھاری احسان ہے ۔ میزبان نے فرمایا کہ یہ اور خوشی کی بات ہے میں وہ بھی جاننا چاہتا ہوں۔ تو اس مہمان نے کہا کہ دیکھو جب تم سامان مہمان واری میں مصروف تھے اور میری طرف سے بالکل بے خبر تھے میں تنہا اس جگہ موجود تھا اگر میں تمہارے اس مکان میں آگ لگا دیتا تو تمہار اکتنا نقصان ہوتا۔ پس میں نے تم پر احسان کیا ہے