کر کے خدا تعالیٰ کی ہستی کے بین ثبوت ہزاروں نشانوں سے دئیے جاتے ہیں ۔ اور ایسا ہوتا ہے کہ کھویا ہواعرفان اور گمشدہ تقویٰ طہارت دنیا میں قائم کی جاتی ہے اور ایک عظیم الشان انقلاب واقع ہوتا ہے ۔ غرض اسی سنت قدیمہ کے مطابق ہمارا یہ سلسلہ قائم ہواہے ۔ یاد رکھو کہ ایمان کو پہچانتا ہے اور روشنی سے روشنی کی شناخت ہوتی ہے سورج دنیا میں موجود ہے مگر جس کی آنکھ میں ہی نور نہ ہو وہ سور ج سے فائدہ ہی کیا آٹھا سکتا ہے ۔ منہ سے یہ دعویٰ کر دینا کہ ہمیں کسی امام یا مصلح کیا ضرورت ہے ۔ بڑا خطر ناک ہے میں سچ مچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے پانے کے واسطے بڑی بڑی سخت مشکلات اور دشوار گذار گھاٹیاں ہیں ۔ ایمان صرف اسی کانام نہیں ہے ۔ کہ زبان سے کلمہ پڑھ لیا ۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان ایک نہایت باریک اور گہراراز ہے اور ایک ایسے یقین کانام ہے جس سے جذبات نفسانیہ انسان سے دور ہو جاویں ۔ اور ایک گناہ سوز حالت انسان کے اندر ہو جاوے ۔ جن کے وجود مٰن ایمان کا سچا نور اور حقیقی معرفت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ان کی حالت ہی کچھ الگ ہو جاتی ہے۔ اور وہ دنیا کے معمولی لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ممتاز ہو تے ہٰں ۔ کوئی ایک گناہ چھوڑ کر ایسا مغرور ہو جانا اور مطمئن ہو جانا کہ بس اب ہم مومن بن گئے اور تمام مدارج ایمان ہم نے طے کر لئے ۔ یہ ایک اپنا خیال ہے ۔ دیکھو انسان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ ہمیشہ ایک حالت پر قائم نہیں رہتی ۔ پس جب تک لمبے تجربہ اور استقامت سے یہ امربپائیہ ثبوت نہ پہنچ جاوے کہ واقعی اب تم خدا تعالیٰ کو مقدم کر لیا ہے اور تمہاری حالت گناہ سوز مستقل ہو گی ہے اور تم کو نفس امارہ اور لوامہ سے نکل کر نفس مطمئنہ عطا کیا گیا ہے اور عملی طور سے سچی پاکیزگی تم نے حاصل کر لی ہے ۔ تب تک مطمئن ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ ترک شر اور کسب خیر کے مراتب دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ قد افلع من تزکی ( الاعلی:۱۵) فلاح وہ شخص پاوے گا جو اپنے نفس میں پوری پاکیزگی اور تقویٰ طہارت پیدا کر لے اور گناہ اور معاصی کے ارتکاب کا کبی بھی اس میں دورہ نہ ہو ۔ اور ترک شر اور کسب خیر کے دونو مراتب پورے طور سے یہ شخص ملے کر ے تب جر کر کہین اسے فلاح نصیب ہو تی ہے ۔ ایمان کوئی آسان سی بات نہیں ۔ جب تک انسان مر ہی نہ جاوے تب تک کہاں ہو سکتا ہے کہ سچا ایمان حاصل ہو۔ دیکھو ایمان کی دو ہی نشانیاں ہین ۔ اول درجہ یہ ہے کہ گناہ کو اانسان چھوڑ دے اور ایسی حالت اس کو میسر ہو جاوے کہ گناہ کر نا گویا آ گ میں پڑنا ہے یا کسی کالے سانپ کے منہ میں انگلی دینا ہے یا کوئی خطر ناک زہر کا