اور رنگ کے دوسرے پہلو کے معنے کر سکتا ہے ۔ غرضیکہ گذشتہ امور پر ہی اگر فیصلہ کا انحصار اور دارومدار ہو تو اس میں بڑی مشکلات پیش آسکتی ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ ہر گز نہیں کر تا کہ حق و باطل میں خلط ہو اور حق دنیا پر مشتبہ رہے اسی واسطے اس کی سنت ہے کہ وہ تازہ بتازہ نشانات سے امر حق کا ہمیشہ اظہار کرتا رہا ہے ۔ چنانچہ اس زمانہ میں بھی جبکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں مامور کر کے بھیجا اور مسیح موعود اور خاتم الخلفاء ہمارا نام رکھا تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ قل عندی شھا دۃ من اللہ فھل انتم مسلمون یعنی ساتھ ہی اپنی شہادت اور گواہی بھی عطا فرمائی ۔ پس اس وقت ہمارے ساتھ بھی جدائی شہادت موجود ہے ، کوئی بھی اعتراض جو منہاج نبوت پر قرآن و حدیث کی روسے ہو ہم اس کا جواب دینے کو ہر وقت تیار ہیں ۔ ہر مدعی سے یہی ہوتا ہے کہ اس کے صدق دعویٰ کا ثبوت مانگا جاتا ہے ۔ سو ہم اس امتحان کے واسطے ہر وقت تیار ہیں ۔ بشرطیکہ منہاج نبوت پر ہو ۔
ؒخد ا جانے ان پرانے قصوں میں کیا رکھا کہ یہ لوگ تازہ بتازہ نشانات کو تو نہیں مانتے اور قصوں کے پیچھے پڑتے ہیں ۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ قصوں سے تمہیں حاصل ہی کیا۔ یہودیوں کے قصے تو تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں تو کیا ان کو مان لو گے ۔ ہر قسم میں قصوں کی بھر مار ہے مگر خشک قصے تقویت ایمان اور تازگی روح کے واسطے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ۔ قصون والا ایمان بھی کچھ بودا ہی ہوتا ہے ۔ تازہ بتازہ نشات اور خدا تعالیٰ کی گواہی کو جو لوگ نہیں مانتے ہیں ان کی سزا ہی آخر یہی ہے کہ وہ قصے کہانیوں کے پیرو ہیں ۔
خلفاء اور مصلحین کا مدعا۔
سوال کیا گیا کہ خلیفہ کے آنے کا مدعا کیا ہوتا ہے ۔
فرمایا:۔
اصلاح ۔دیکھو حضرت آدم سے اس نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک مدت دراز کے بعد جب انسانوں کی عملی حالتیں کمزور ہو گئیں اور انسان زندگی کے اصل مدعا اورکدا کی کتاب کی اصل غائیت بھول کر ہدایت کی راہ سے دور جا پڑے تو پھر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ایک مامور اور مرسل کے ذریعہ سے دنیا کو ہدایت کی اور ضلالت کر گڑھے سے نکالا۔ شان کبریائی نے جلوہ دکھایا اور ایک شمع کی طرح نور معرفت دنیا میں دوبارہ قائم کیاگیا۔ ایمان کو نورانی اور روشنی والا ایمان بنادیا ۔
غرض اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی سنت چلی آتی ہے کہ ایک زمانہ گذرنے پر جب پہلے نبی کی تعلیم کو لوگ بھول کر راہ راست اور متاع ایمان اور نور معرفت کو کھو بیٹھتے ہیں ۔ اور دنیا میں ظلمت اور گمراہی فسق و فجور چاروں طرف سے خطر ناک اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ کی صفات جوش مارتی ہیں ۔ اور ایک بڑے عظیم الشان انسان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا نام اور توحید اور اخلاق فاضلہ پھر نئے سرے سے دنیا میں اس کی معرفت قائم