بھی اعلان کیا تھا کہ مرزا رمضان کے مہینے میں مر جائے گا۔ مجھے عرش سے یہ خبر دی گئی ہے ۔ آخر جب وہ رمضان کا مہینہ آیا تو خود ہلاک ہو گیا۔ بابو الہٰی بخش صاحب نے بیھ ہماری نسبت اپنی کتاب میں طاعون سے مرنے کی پیشگوئی کی تھی مگر آپ لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ کس طرح مرے۔
اب تبائو کہ معجزات کے سر پر سینگ ہوتے ہیں ۔ ڈوئی جو سمندروں کے پار بیٹھا تھا جب وہ ہمارے مقابلہ میں اای اور ہم نے خدا سے خبر پا کر اس کے واسطے اس کی پر حسرت ہلاکت کے واسطے پیشگوئی کی تو فوراً اس پر آثار اوبار ظاہر ہو نے شروع ہو گئے اور آخر کار بڑی نامرادی سے مفلوج ہو کر اور طرح طرح کے دکھ اور ذلتیں دیکھتا ہواہلاک ہو گیا۔، غرضیکہ اگر نشانات کی ایک کتاب بنائی جاوے تو یقین ہے کہ پچاس جزو کی ایک کتاب تیار ہو ۔ دیکھو عبداللہ آتھم بھلا اب کہاں ہے ۔
لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے واسطے کوئی نیامعجزہ دکھائو ۔ خدائی نشانات کیا باسی ہو گئے ہیں اور وہ رومی ہو گئے کہ ان کو رد کر دیا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے نشانات مانگے جاتے ہیں ۔ خد تعالیٰ کسی کا ماتحت ہو کر نہیں چلنا چاہتا ۔ کہ وہ کسی کی مرضی کا تابع ہو ۔ ہو نشان دکھا رہا ہے مگر اپنی مرضی کے موافق دکھاتا ہے ۔ کیا ان سے تسلی نہیں ہو تی کہ اور مانگتے جاتے ہیں ۔
الغر ض قرآن شریف میں آخری زمانہ کے موعود کانام خلیفہ رکھا گیا ہے ۔ اور احادیث نبویہ میں مسیح کے نام سے اس کو یاد کیا گیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمارے دو نام رکھ ہیں جو کہ ہماری کتاب میں جس کو عرصہ چھبیس سال ہو گیا ہے ۔ چھپ کر شائع ہو گئی اور دوست دشمن کے ہاتھ میں موجود ہے ۔ چنانچہ ہمارے ایک الہام میں یوں آیا ہے انی جاعل فی الارض خلیفۃ اور ایک دوسرے الہام میں ہے کہ الحمدللہ الذی جعلک المسیح ابن مریم ۔ غرض حدیث اور قرآن شریف کے روسے اللہ تعالیٰ نے ہمارا ہی یہ نام رکھا ہے اور آنے والا موعود ہمیں ہی مقر ر فرمایا ہے ۔
مسیح ناصری تو مر گیا اور قرآن شریف میںباربار اس کی وفات کا بڑے زور سے ذکر کیا گیا ہے ۔ وہ تو اب کسی طرح زندہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ جب اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسر ے کو بٹھا دیا تو اب بھی اس کا انتظار کرنا کسی نادانی اور جہالت ہے ۔ میرا مدعایہ ہے کہ لوگ جو اس معاملہ میں بحث کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارے منہ مانگے نشان دیئے جاویں ۔ دیکھو صد ہانبی ایسے بھی آئے کہ ان کی پیشگوئی کسی پہلی کتاب میں نہیں کی گئی ۔
اس کے ساتھ خدا ئی نشان اور تائید کا علم لازمی طور پر ہوتا ہے ۔ دیکھو بائیبل ‘انجیل ‘قرآن ‘ حدیث میں جن معجزات کا ذکر ہے دشمن ان کو نہ ماننے کے کئی وجوہ پیدا کرسکتا ہے ۔ تحریف تبدیل کا الزام لگا سکتا ہے