تو حید کے قائل ہیں ،۔عیسائی بھی توحید کے خیالات رکھتے ہیں ۔ آریہ بی توحید کے حامی بنتے ہیں ۔ یہودی بھی موجد ہیں ۔ ہم نے ایک خط فاضل یہودی کو لکھا تھا کہ توحید کے متعلق تمہارا کیا عقیدہ ہے۔ اس کے جواب میں اس نے لکھا کہ ہماری تعلیم توحید کی ہے اور ہمارا وہی خدا ہے جو قرآن کا خدا ہے ۔ اب یہ سمجھنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ جب یہ لوگ بھی توحید کا ہی دعویٰ کرتے ہیں تو مسلمانوں میں خصوصیت کی وجہ کیا ہے۔ حق و باطل میں تمیز کرنیوالے معجزات: رہی نظری اور دقیق بحثیں سووہ توذبح کرنیوالی باتیں ہیں ۔ بحثوں سے کبھی کوئی مانا نہیں دیکھو لیکھرام کا مجھ سے مقابلہ ہواتھا۔ اس نے میرے واسطے پیشگوئی کی تھی کہ تین برس میں مر جائوں گا میں نے خدا سے کبر پا کر اس کے حق میں پیشگوئی کی تھی کہ چھ بر س میں بذریعہ قتل ہلاک ہو گا ۔ لیکھرام کی کتاب ’’خبط احمدیہ‘‘ کھول کر دیکھ لو کہ کس طرح اس نے رو رو کر گریہ وبکا سے پرمیشر کے حضور نہایت عجزو اندسار سے التجا کی ہے ۔ اور خدا تعالیٰ سے صٓدق کی تائید اور نصرت اور کاذب کی ہلاکت اور بربادی کا فیصلہ مانگا ہے تاکہ حق و باطل میں تمیز ہو سکے ۔اوردنیا پر ظاہر ہو جاوے کہ آریہ مت اور مذہب اسلام دونو میں سے خدا کے حضور کونسی راپ پیاری اور منظور ہے اور کونسی مردود ہے ۔ آخر کارجو فیصلہ ہوا ایک دنیا اس کو جانتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے کس کی تائید کی اور کون نامرادمرا ۔ اور اس طرح سے سچے اور جھوٹے اور اسلام اور آریہ مذہب کا ہمیشہ کے واسطے تصفیہ ہو گیا ۔ ؎۱ یہ ہیں خدا کے نشان اور ان کا نام ہے مابہ الامتیاز ۔ خشک مباحثات سے کیا ہو سکتا ہے ۔ بھلا کبھی کسی نے دیکھا بھی کہ مباحثہ سے کسی نے ہار منوائی ہو۔ ایک طرف خبط احمدیہ کو لے لو اور دوسری طرف میر ی کتابوں لو جن میں یہ پیشگوئی بڑی لبط سے درج ہے پھر مقابلہ کرو کہ کونسا کدا کا کلام ہے اور کونسا شیطان کا ۔ اگر میرا نطق خدا کی طرف سے اور خا کے حکم سے نہ ہوتا تو کیا ممکن نہ تھا کہ میں ہی مر جاتا اور وہ زندہ رہتا کیونکہ ظاہر اسباب اس بات کے متقاضی تھے ۔ میں اس کی نسبت عمر میں زیادہ تھا اور پھر بیماری میرے لاحق حال تھی مگر بر خلاف اس کے وہ مضبوط تو نا اور تندرست تھا۔ یہی نہیں بلکہ اس کے سوا اور بھی جس جس نے مباہلہ کیا وہی ذلیل ہوا۔ ہلاک ہوا۔ غلام دستگیر قصوری ۔ محی الدین لکھو کے والا۔ ان لوگوں نے مباہلہ کئے اور خود ہی ہلاک ہو کر ہماری صداق پر ہمیشہ کے واسطے مہریں کر گئے ۔ مولوی چراغ دین جموں والا نے میری نسبت پیشگوئی کی کہ طاعون سے مرے گا اور مباہلہ کیا ۔مگر وہ دیکھو خود ہی طاعون سے مرا۔ ایک فقیر مرزا تھا ۔ اس نے