وہی اسلام ہے کہ لاکھوں انسان اس سے مرتد اوربے دین ہو گئے ۔ اندرونی بیرونی دشمنوں کے حملوں سے اسلام کو نابود کرنے کی کوشش کی گئی اور اسلام کی ہتک کی گئی ۔ پائوں کے نیچے رواند اور کچلا گیا ۔ خود مسلمانی کا دعویٰ کرنے والے دین کی حقیقت سے بے کبر ہو کر دین کے دشمن ثابت ہو رہے ہیں ۔ اب بتائو کہ وہ کونسی ضلالت اور گمراہی باقی ہے جس کی اب انتظار کی جاتی ہے ۔عیسائیوں میں پادری فنڈر کی کتابیں مطالعہ کر کے دیکھ لو ۔ وہ لکھتا ہے ۔ کہ اسلام کمیں ایک بھی پیشگوئی نہیں جو کی گئی اور نہ ہی کوئی پوری ہو ئی ۔ الم غلبت الروم(الروم :۲‘۳)والی پیشگوئی کو بھی وہ ظنی اور ڈھکو سلا بتاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ( نعوذ باللہ) واقعات موجود کو دیکھ کر ایسا اندازہ کر لیا تھا اور اس طرح سے پیشگوئی کر دی تھی۔ اس کے سوا اور سینکڑوں کتابیں اور رسالئل ہیں جو اسلام کے خلاف لکھے گئے ۔ کوئی مسلمان کسی عیسائی کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اور دشمنان اسلام کو کوئی دندان شکن جواب نہیں دے سکتا ۔ اگر اسلام اور اسلام کی زندگی صرف پرانے قصے کہانیاں پر ہی آرہی ہے تو پھر یادر کھو کہ اسلام آج بھی نہیں ہے اور کل بھی نہیں ہے ۔ یاد رکھو کہ اسلام کی جس طرح خدا تعالیٰ نے ابتداء میں حمایت کی اور کرتا آیا ہے ۔ اسی طرح آج بھی اسلام کی حمایت میں وہ تازہ بتازہ نشان دکھا سکتا ہے ۔ اور ہر مومن کے واسطے وہ بشرطیکہ کوئی مومن ہو فرقان پدیا کر سکتا ہے ۔ مگر یہ ہیں نام کے ملاں اور حمیان دین متین کہ وخود منبر وں پر چڑھ کر بلند آوازوں سے کہتے ہیں کہ اب اسلام میں نشان دکھانے وال کوئی نہیں ۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب نے خود جلسہ مہوتسو میں جہاں کہ تمام مذاہب کے لوگ جمع تھے اس بات کا اقرار کیا کہ افسوس ہے کہ اسلام میں آجکل ایسے لوگ موجود نہیں ہیں جو نشان دکھا سکیں ۔ گویا خود اقرار کر لیا کہ ہمارا مذہب بھی دوسرے مذاہب کی طرح ایک مردہ مذہب ہے اور زندگی کی جو علامات ہوتی ہیں وہ اب اس میں موجو نہیں ہیں ۔ اب غور کر و کہ اسلام کی عزت ایسی ہی باتوں میں ہے ۔ نیں بلکہ اس سے بڑح کر اور کیا ذلت ہو گی کہ اسلام کو ایسے لوگوں سے خالی ماناجاوے جن سے خدا تعالیٰ مکالمہ مخاطبہ کرتا ہو اورجن کی صداقت کے ثبوت کے واسطے ان کے ساتھ زبردست غیب پر مشتمل نشان موجود ہوں ۔ یادرکھو کہ اگر خدانخواستہ ایسا بھی کوئی زمانہ آجاوے کہ اسلام میں یہ برکات نہ رہیں تویقین رکھو کہ اسلام بھی اورمذہبوں کی طرح مرگیا ۔ کیونکہ زندگی کی جو علامت تھی جب وہی مفقود ہے تو پھر زندگی کیسی ؟دیکھو برہمو بھی تولاالٰہ الا اللہ کے قائل ہیں وہ اگر تم سے سوال کریں کہ محمد رسول اللہ کے زیادہ کرنے سے تم میں کیا طاقت اورخصوصیت پیدا ہوگئی ؟تو بتائوان کو کیا جواب دو گے ۔ مسلمان کو چاہیے کہ ایک ایسی زبر دست بات پکڑے اور ایسا اصول اختیار کر ے کہ جس سے وہ دوسروں پر غالب آجاوے ۔ اچھا اگر یہی بات ہے تو پھر بتائو تو سہی کہ تم میں اور تمہارے غیروں میں مابہ الا متیازہی کیا ہے جبکہ بر ہمو بھی