ممکن تھا کہ وہ فاسق فاجر اور بے دین لوگ وحی اور الہام کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھے اور پھر ان کا اعتراض قوی ہوتا اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت سے انبیاء اولیا کے مکالمات اور مخاطبات اور وحی نبوت کے واسطے بطور تخم ریزی یہ ایک شہادت ہر طبقہ کے لوگوں میں خود ان کے نفسوں میں پیدا کردی تاکہ انسان کو انکار کرنے کے واسطے کوئی مفر نہ رہ جاوے اور اندر ہی اندر ملزم ہوتا رہے ۔ سلسلہ مکالمہ ومخاطبہ اسلام کی روح ہے ۔ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان کو اگر کسی چیز کا نمونہ نہ دیا جاوے تو اس کے متعلق شہبات میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ یہ بات صرف صرف اسلام ہی میںپائی جاتی ہے ۔ اور یہ صداقت مذہب کی ایک اعلیٰ دلیل ہے جو کسی دوسرے مذہب میں پائی نہیں جاتی۔ اسلام ہی خدا کا پسند اورخدا تعالیٰ کا مقرب و مقبول مذہب ہے اس واسطے اس نے محض اپنے رحم سے اسلام مٰں مسلمانوں کو ٹھوکر اور شہبات سے بچانے کے واسطے سلسلہ مکالمات اور مخاطبات کا ہمیشہ جاری رہنے والا اکمل فیضان عطا کیا۔ لوگوں کے دلوں مین اس قسم کے خیالات اکثر جاگزیں ہو جایا کرتے ہیں ۔ کہ میں بھی انسان ہوں اور یہ مدعی الہام بھی آخر میری ہی طرح کا انسان ہے تو کیا وجہ ہے کہ مجھے الہام اور مکالمہ الہٰیہ نہیں ہوتا اور اس کو ہوتا ہے ۔ اس واسطے ایسے شبہات کا قلع قمع کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نین ہر انسان میں اس فیضان کی ایک جھلک بطور نمونہ رکھ دی ۔ دیکھو جس طرح ایک پیسہ لاکھ دو لاکھ پیسوں کے وجود کے لئے اور ایک روپیہ کروڑ دو کروڑ روپوں اور خزائن کے واسطے دلیل ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح سے ایک سچا خواب الہام کے واسطے دلیل صحیح ہو سکتا ہے ۔ سچے خواب بطور ایک نمونہ کے فطرت انسانی میں وویعت کئے گئے ہیں تاکہ اس نقطہ سے اس انتہائی کمال فیضان کا وجود یقین کر لیا جاوے ۔ جب ایک خواب معمولی بلکہ ادنیٰ درجہ کے انسان کو بھی ممکن ہے تو کیا وجہ ہے کہ اعلیٰ درجہ کے کامل اور پاک مطہر انسان میں اس خواب کا اعلیٰ مرتبہ جس کو الہام کہتے ہیں ۔ موجود نہ ہو ۔ کیونکہ سچا خواب بھی کمالات کا ایک ادنیٰ ترین حصہ ہے ۔ یادر کھو کہ سلسلہ مکالمہ مخاطبہ اسلام کی روح ہے۔ ورنہ اگر اسلام کو یہ شرف حاصل نہ ہوتا تو یقینا اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ایک مردہ مذہب ہوتا ہے۔ اس بات کو خوب سمجھ لو کہ اگر اسلام اس فضل الہیٰ اور برکت سے خالی ہوتا تو یقینا اسلام میں بھی کوی وجہ فضیلت نہ تھی۔ یہ خداتعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ وہ اس قسم کی زندہ نمونے اسلام میں ہر صدی کے سر پر بھیجتا رہا ہے ۔ اور اس طرح سے ہمیشہ اسلام کا زندہ مذہب ہونا ۔ دنیا پر ثابت کرتا رہا ہے ۔ اسلام ایک وقت وہ مذہب تھا کہ ایک شخص کے مرتد ہوجانے سے قیامت برپا ہو جاتی تھی ۔ مگر اب