ﷺ میں کمی بیشی کرتے یا ان کو منسوخ کرنے کا دعویٰ کرتے ۔ نماز ‘روزہ اورحج کے مسائل میں کوئی تغیر تبدل کرتے تو اس قسم کا کوئی وغدغہ اورشک وشبہ بھی بجا تھا۔ مگر ہم تو کہتے ہیں کہ کافر ہے وہ شخص جو آنحضرت ﷺ کی شریعت سے ذرہ بھر بھی ادھر ادھر ہوتا ہے ۔آنحضرت ﷺ کی اتباع سے روگردانی کرنے والا ہی ہمارے نزدیک جب کافر ہے تو پھر اس شخص کا کیا حال جو کوئی نئی شریعت لانے کا دعویٰ کرے یا قرآن اورسنت رسول ﷺ میں تغیر تبدل کرے یا کسی حکم کو منسوخ جانے ہمارے نزدیک تومومن ہی ہے جو قرآن شریف کی سچی پیروی کرے اورقرآن شریف ہی کو خاتم الکتب یقین کرے اوراسی شریعت کو جو آنحضرت ﷺ دنیا میں لائے تھے ۔ اسی کو ہمیشہ تک رہنے والی مانے اوراس میں ایک ذرہ بھر اور ایک شوشہ بھی نہ بدلے اور اس کی اتباع میں فنا ہوکر اپنا آپ کھودے اوراپنے وجود کا ہرذرہ اسی راہ میں لگائے عملاً اورعلماً اس کی شریعت کی مخالفت نہ کرے تب پکا مسلمان ہوتا ہے ۔ البتہ ہمارے اوپر جو کلام الہٰی نازل ہوتا ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئیے کہ ہم نے کسی نئی اورتشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ مکالمہ مخاطبہ کی کثرت کیا بلحاظ کمیت اورکیا بلحاظ کیفیت کی وجہ سے نبی کہا گیا ہے ۔ اب اس مجلس میں اگر کوئی صاحب عبرانی یا عربی سے واقف ہے تووہ جان سکتا ہے کہ نبی کا لفظ نبأ سے نکلا ہے اورنبأ کہتے ہیں خبر دینے کو ۔ اورنبی کہتے ہیں خبر دینے والے کو ۔ یعنی خداتعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پاکر جو غیب پر مشتمل زبردست پیشگوئیاں ہوں مخلوق کو پہنچانے والا اسلام اصطلاح کی روسے نبی کہلاتا ہے ۔چنانچہ قرآن شریف میں ہے انبئونی باسمآء ھولآ ء (البقرۃ :۳۲)اصل میں ہماری اوران لوگوں کی نزاع صرف لفظی ہے ۔ ہمارے مخالف اگر تقویٰ طہارت نہ چھوڑیں اورتعصب اورعناد نہ کریں توسب جانتے ہیں اور متقدمین بزرگ اوراولیا ء اللہ صاف لکھ گئے ہیں وللہ باولیا ء ہ مکالمات ومخاطبات دنیا میں صدہا نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں بلکہ سچی خواب تو بعض اوقات بلا امتیاز نیک وبدکافرومسلم کو بھی آ جاتی ہے ۔بعض وقت زانی مردوں اورزانیہ عورتوں کو ‘چوہڑے چماروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں ۔پھر مومن کو جوکہ بوجہ اپنے ایمان صحیح کے ان سے بڑھ کر اس بات کا مستحق ہے کیوں سچی خواب یا کشوف اورالہامات نہ مانے جاویں ۔ بلکہ مومن کو بہت بڑھ چڑھ کر یہ سب باتیں میسر آسکتی ہیں۔ اس سے یہ مت خیال کرو کہ اس طرح صادقوں اورمامورین انبیاء ورسل کی رئو یا اور کشوف اورالہامات کی بے رونقی ہوتی ہے یا ان کی شان میں کوئی فرق یا بے وقعتی لازم آتی ہے ۔ نہیں بلکہ یہ امورتو اس وحی نبوت اور خداتعالیٰ کے مکالمات مخاطبات کے واسطے جو کہ اس کے انبیاء اوررسولوں کو اس کی طرف سے عطاکئے جاتے ہیں ان کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کی صداقت کی ایک قوی دلیل ہیں کیونکہ اگر اس کا بیج ان لوگوں میں نہ پایا جاتا تو