قرآن جس کے سکھانے کو آیا ہے لوگ اس راہ کو ترک کردیں گے اوراپنی ہواوہوس کے پابند ہو جاویں گے ۔ جب یہ حال ہوگا تو ابنائے فارس میں سے ایک شخص آوے گا اور وہ دین کو از سرنوواپس لائے گا اور دین کو اورقرآن کو ازسر نوتازہ کرے گا۔ قرآن کی کھوئی ہوئی عظمت اوربھولی ہوئی ہدایت اورثر یا پرچڑھ گیا ہو ایمان دوبارہ دنیا میں پھیلاوے گا۔ لوکان الایمان معلقاعندالثر یالنالہ رجل من ھو لآء (ای ابناء فارس) غرض قرآن شریف سے اوراحادیث نبویہ ﷺ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس امت میں آخری زمانہ میں ایک خلیفہ کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہے اوراس کے علامات اورنشانات بھی بتادیئے گئے ہیں ۔ہمیں مسیح موعودؑ ہونے کا دعویٰ ہے ۔ اب ہر شخص کا جو خدا اور رسول سے پیارکرتا ہے اوراپنے ایمان کو سلامت رکھتا چاہتا ہے فرض ہے کہ اس معاملہ میں غورکرے کہ آیا ہم نے جو دعویٰ کیا ہے سچا ہے کہ جھوٹا ۔ خداتعالیٰ کی طرف سے آنے والوں کے ساتھ خدائی نشان ہوتے ہیں ۔ صرف نرازبانی دعویٰ قابل پذیرائی نہیں ہوتا ۔ منجملہ اورعلامات کے جو ہمارے آنے کے واسطے اللہ اور رسول کی کتابوں میں مندرج ہیں ایک اونٹوں کی سواریوں کا معطل ہوجانا بھی ہے ۔چنانچہ اس مضمون کو قرآن شریف نے بالفاظ ذیل تعبیر کی اہے واذا العشارعطلت (التکویر:۵)اورحدیث نبوی ﷺ میں اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ ولیترکن القلاص فلا لیسعی علیھا۔ اب سوچنے والے کو چاہئیے کہ ان امور میں جو آج سے تیرہ سوبرس پہلے خدااوراس کے رسول کے منہ سے نکلے اوراس وقت وہ الفاظ بڑی شان اورشوکت سے پورے ہوکر اپنے کہنے والوں کے جلال کا اظہار کررہے ہیں ۔دیکھئے اب اس پیشگوئی کے پوراہونے کے کیسے کیسے سامان پیدا ہورہے ہیں حتیٰ کہ حجاز ریلوے کے تیار ہوجانے پر مکہ معظمہ اورمدینہ منورہ کے سفر بھی بجائے اونٹ کے ریل کے ذریعہ ہواکریں گے اور اونٹنیاں بیکار ہوجاویں گے ۔ رہی یہ بات کہ ان پیشگوئیوں کو مسیح موعود کے لفظ سے کیا تعلق ہے کیونکہ قرآن شریف میں تومسیح موعود کا نام کہیں نہیںآیا ۔ سواس کے واسطے یادرکھنا چاہیئے کہ ہم خاتم الخلفا ء ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اورخاتم الخلفاء کاقرب قیامت کے وقت ظہور ہونے کا وعدہ قرآن شریف میں موجود ہے ۔پھر ہمیں باربار بذریعہ الہام الہٰی اس امر کی بھی اطلاع دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود بھی ہمارا ہی نام رکھا ہے جس کے آنے کے متعلق احادیث میں وعدہ تھا۔ یادرکھو کہ جو شخص احادیث کو ردی کی طرح پھینک دیتا ہے وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلام کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے کہ جو بغیر مدد احادیث ادھورا رہ جاتا ہے ۔ جوکہتا ہے کہ مجھے احادیث کی ضرورت