اس کا انکار کردینا کس طرح سے اسلام ہوسکتا ہے اورپھر جبکہ وہ ایک ایسا شخص ہے کہ اس کے واسطے آسمان پر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید میں نشان ظاہر کئے اورزمین پر بھی معجزات دکھائے ۔ اس کی تائید کے واسطے طاعون آیا اور کسوف وخسوف اپنے مقررہ وقت پر بموجب پیشگوئی عین وقت پر ظاہر ہوگیا۔ تو کیا ایسا شخص جس کی تائید کے واسطے آسمان نشان ظاہر کرے اور زمین الوقت کہے وہ کوئی معمولی شخص ہوسکتا ہے کہ اسکا ماننا اورنہ ماننا برابر ہو اورلوگ اسے نہ مان کر بھی مسلمان اور خدا کے پیارے بندے بنے رہیں ؟ہرگزنہیں۔ یادررکھو کہ موعود کے آنے کی کل علامات پوری ہوگئی ہیں ۔ طرح طرح کے مفاسد نے دنیا کو گندہ کردیا ہے خود مسلمان علماء اوراکثر اولیا ء نے مسیح موعود کے آنے کا یہی زمانہ لکھاہے کہ وہ چودھویں صدی میں آئے گا۔ حج الکرامہ میں بھی اسی چودھویں صدی کے متعلق لکھا ہے اور کوئی بھی نہیں جو اس صدی سے آگے بڑھا ہو۔ تیرھویں صدی سے تو جانوروں نے بھی پناہ مانگی تھی اورلکھا ہے کہ اب چودھویں صدی مبارک ہوگی ۔ اس قدر متفقہ شہادت کے بعد بھی جو کہ اولیاء اوراکثر علماء نے بیان کی ۔ اگر کوئی شبہ رکھتا ہو تو اسے چاہئیے کہ قرآن شریف میں تدبر کرے اورسورۃ النور کو غور سے مطالعہ کرے ۔دیکھو جس طرح حضرت موسیٰ ؑ سے چودہ برس بعد حضرت عیسیٰؑ آئے تھے اسی طرح یہاں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد چودہویں صدی ہی میں مسیح موعود آیا ہے اور جس طرح حضرت عیسیٰؑ سلسلہ موسوی کے خاتم الخلفاء تھے۔ اسی طرح ادھر بھی مسیح موعود خاتم الخلفاء ہوگا۔ اسلام اس وقت اس بیمار کی طرح تھا جس کی زندگی کا جام لبریز ہوچکا ہو۔ اسلام پر ظلم کیا گیا اور بڑی بے رحمی سے دشمن چاروں طرف سے اپنے پورے ہتھیاروں سے اس کو نیست ونابود کرنے کے واسطے مسلح وتیار ہوکر حملہ آور ہو رہے ہیں ۔اسلام اس وقت مردہ ہوچکا تھا اوراندرونی اور بیرونی حملوں سے نیم جان ۔ اسلام کی شمع کا اب آخر ی وقت تھا اوراس کی گردن پر بڑی بے رحمی سے چھری پھیری جارہی تھی ۔اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ انانحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحمجر:۱۰)کس وقت کے لئے کیا گیا تھا ؟کیا ابھی کوئی اور مصیبت بھی رہ گئی تھی جو اسلام پر آنی باقی ہو؟یادرکھو حفاظت سے اوراق کی حفاظت ہی مراد نہیں بلکہ اس کی تشریح ایک حدیث میں ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ قرآن شریف دنیا سے اٹھ جاوے گا۔ ایک صحابی ؓ نے عرض کیا کہ لوگ قرآن کو پڑھتے ہوں گے تو اٹھ کیسے جاوے گا ؟فرمایا کہ میں تو تمہیںعقلمند خیال کرتا تھا مگر تم بڑے بیوقوف ہوکیا عیسائی انجیل نہیں پڑھتے ؟اورکیا یہودی توریت نہیں پڑھتے ؟قرآن شریف کے اٹھ جانے سے مراد یہ ہے کہ قرآن شریف کا علم اٹھ جاوے گا اورہدایت دنیا سے نابود ہوجاوے گی ۔ انوار اوراسرار قرآنیہ سے لوگ بے بہرہ ہوجاویں گے اورعمل کوئی نہ کریگا ۔