شروع کرتے ہیں۔ یہ بد عت ہے۔ حدیث شریف میں کسی جگہ اس کا ذکر نہیں آیا کہ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پھر دعا کی جاوے۔ نادان لوگ نماز کو تو ٹیکس جانتے ہیں اور دعا کو اس سے علیحدہ کرتے ہیں۔ نماز خود دُعاہے۔ دین و دنیا کی تمام مشکلات کے واسطے اور ہر ایک مصیبت کے وقت انسان کو نماز کے اندر دعائیں مانگنی چاہئیں۔ نماز کے اندر ہر موقعہ پر دعا کی جاسکتی ہے ۔ رکوع میں بعد تسبیح ، سجدہ میں بعد تسبیح ، التحیات کے بعد، کھڑے ہو کر رکوع کے بعد بہت دعائیں کرو تاکہ مالا مال ہو جائو۔ چاہیئے کہ دعا کے واسطے روح پانی کی طرح بہہ جاوے۔ ایسی دعا دل کو پاک و صاف کر دیتی ہے ۔ یہ دُعا میسر آوے تو پھر خواہ انسان چار پہر تک دُعامیں کھڑا رہے۔ گناہوں کی گرفتاری سے بچنے کے واسطے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگنی چاہئیں۔ دعا ایک علاج ہے جس سے گناہ کی زہر دور ہو جاتی ہے بعض نادان لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنی زبان میں دُعا مانگنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ یہ غلط خیال ہے۔ ایسے لوگوں کو نمازتو خود ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔ ۱؎ یکم ستمبر ۱۹۰۶ئ؁ مخالفت ہمیشہ راستبازوں کی ہوتی ہے :۔ ایک اخبارکی مخالفانہ اور تعصب اور جھوٹ سے بھری ہوئی تحریر پیش ہوئی ۔ فرمایا:۔ یہ لوگ لکھ لیں جو کچھ ان کا جی چاہتاہے مگر کب تک ؟ آخر کار سچائی سچائی ہے اور جھوٹ جھوٹ ہے اور دنیا کے سامنے جلد کھل جائے گا کہ حق پر کون ہے اور جھوٹے خود بخود مٹ جائیں گے کیونکہ جھوٹ کو کبھی فروغ نہیں ہو سکتا۔ فرمایا:۔ تعجب ہے ان لوگوں پر کہ نہایت بے باکی سے کہہ دیتے ہیں کہ کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔ یہ سب پیشگوئیاں جھوٹی ہیں۔ اُن کو چاہیئے تھا کہ انتظار کرتے اور ایسی جلد بازی سے تکذیب نہ کرتے ۔ دنیوی عدالتوں میں ایک مقدمہ پیش ہوتاہے تو اس جگہ بھی انسان خوفزدہ رہتاہے اور بیہودہ گوئی سے یہ نہیں کہتا پھرتاکہ مجھ کو ڈگری حاصل ہو جائے گی۔ چہ جائیکہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں مقدمہ پیش ہے اور یہ لوگ اتراتے پھرتے ہیں۔ فرمایاکہ :۔