کہ اپنے بیمار کے واسطے دُعا کیا کرے کیونکہ سب ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔ خدا تعالیٰ نے اس کو حرام نہیں کیا کہ تم حیلہ کرو۔ اس واسطے علاج کرنا اور اپنے ضروری کاموں میں تدابیر کرنا ضروری امر ہے لیکن یاد رکھو کہ موثر حقیقی خدا تعالیٰ ہی ہے ۔ اسی کے فضل سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔ بیماری کے وقت چاہیئے کہ انسان دوا بھی کرے اور دُعا بھی کرے۔ بعض وقت اللہ تعالیٰ مناسب حال دوائی بھی بذریعہ الہام یا خواب بتلا دیتاہے اور اس طرح دعا کرنے والا طبیب علم طب پر ایک بڑا احسان کرتا ہے ۔ کئی دفعہ اللہ تعالیٰ ہم کو بعض بیماریوں کے متعلق بذریعہ الہام کے علاج بتا دیتاہے ۔ یہ اس کا فضل ہے۔ ۱؎ یکم اگست ۱۹۰۶ئ؁ صدمات پر صبر:۔ حافظ محمد ابراہیم صاحب جن کی بیوی کل شام کو فوت ہو چکی ہے۔ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حافظ صاحب کو مخاطب کرکے حضرت نے فرمایا کہ :۔ آپ پر اپنی بیوی کے مرنے کا بہت صدمہ ہواہے اب آپ صبر کریں تاکہ آپ کے واسطے ثواب ہو ۔ آپ نے اپنی بیوی کی بہت خدمت کی ہے ۔ باوجود اس معذوری کے کہ آپ نابینا ہیں۔ آپ نے خدمت کا حق ادا کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے پاس اس کا اجر ہے۔ مرنا تو سب کے واسطے مقدر ہے ۔ آخر ایک نہ ایک دن سب کے ساتھ یہی حال ہونے والا ہے ۔ مگر غربت کے ساتھ بے شر ہو کر مسکینی اور عاجزی میں جو لوگ مرتے ہیں ان کی پیشوائی کے واسطے گویا بہشت آگے آتا ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ نے لعزر کے متعلق بیان کیا ہے ۔ نماز میں دُعا:۔ نماز کے اندر اپنی زبان میں دُعا مانگنی چاہئے ۔ کیونکہ اپنی زبان میں دعا مانگنے سے پورا جوش پدیا ہوتاہے سورۃ فاتحہ خد ا تعالیٰ کا کلام ہے وہ اسی طرح عربی زبان میں پڑھنا چاہیئے اور قرآن شریف کا حصہ جو اس کے بعد پڑھا جاتاہے وہ بھی عربی زبان میں ہی پڑھنا چاہیئے اور اس کے بعد مقررہ دعائیں اور تسبیح بھی اسی طرح عربی زبان میں پڑھنی چاہئیں لیکن ان سب کا ترجمہ سیکھ لینا چاہئے اور ا کے علاوہ پھر اپنی زبان میں دعائیں مانگنی چاہئیں تاکہ حضور دل پیدا ہو جاوے۔ کیونکہ جس نماز میں حضورِ دل نہیں وہ نماز نہیں ۔ آجکل لوگوں کی عادت ہے کہ نماز کو ٹھونگے دار پڑھ لیتے ہیں۔ جلدی جلدی نماز کو ادا کر لیتے ہیں جیسا کہ کوئی بیگار ہوتی ہے۔ پھر پیچھے سے لمبی لمبی دعائیں مانگنا