یہی یتیم دنیا کا شہنشاہ اورنجات دہندہ ہوگا۔ ۱؎ یکم مئی ۱۹۰۸ئ؁ خداکی طرف آنیوالا کبھی ضائع نہیں ہوتا نماز جمعہ سے پہلے جبکہ چند ا جنبی آپ کی ملاقات کے واسطے آئے ۔ فرمایا :۔ ہمیں تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آجکل اسلام کی خوش قسمتی نہیں بلکہ بدقسمتی کے دن ہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو دینی امور سے کوئی دلچسپی نہیں ۔بلکہ لوگ خدا کو بھی بھول چکے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ ایک غلطی ہے جو شاید غرغرے کے وقت ان کو معلوم ہوجائے گی اورلوگ اس وقت یقین کریں گے کہ واقعی ہم نے جو کچھ سمجھا ہواتھا وہ سارا تانا بانا غلط تھا ۔ جو انسان کوشش کرے گا وہی پائے گا۔ کوشش توہو ساری دنیا کے واسطے اورخدا کانام درمیان بھولے سے بھی نہ آئے ۔ تقویٰ ہو نہ طہارت ۔ پھر ایسا انسان امیدوا ر ہوخدا کے ملنے کا ‘یہ محال ہے ۔آخراب وقت آگیا ہے کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں اجر دیا جاوے جو دین کو دنیا پر مقدم کریں ۔ بجز توفیق الہٰی کے کچھ نہیں ملتا ۔ دیکھو نبی کریم ﷺ نے دنیا کو خدا کے لئے ترک کردیا تھا مگر خداتعالیٰ نے کس طرح ذلیل کرکے دنیا کو آپ کے سامنے غلاموں کی طرح حاضر کردیا ۔ دنیا طلب سے بھاگتی اور کوسوں دورجاتی ہے مگر جو صدق دل سے خدا کی طرف جاتاہے اورخداتعالیٰ کی راہ میں دنیا کی کچھ پرواہ نہیں کرتا دنیا اس کے پیچھے پیچھے پھرتی ہے ۔ دیکھو۔ حضرت مسیح ؑ کو اس وقت چالیس کروڑ انسان پوجنے والا موجود ہے ۔نبی ماننا تو درکنار اس کی خدائی کے قائل ہیں۔ یہ سب خداکی قدرت کے نمونے ہیں کہ خداتعالیٰ کی طرف آنے والا کبھی ضائع نہیں کیا جاتا دین بھی اسے ملتا ہے اوردنیا بھی اس کے لئے حاضر کی جاتی ہے ۔ دنیا کا پرستار رو ز جو چاہے سوکرے مگر آخر کار دنیا بھی چھوٹ جائے گی اور آخر ت بھی برباد ۔ دیکھو دنیا بھی آخر مفت تو نہیں مل جاتی ۔ دنیا کے وعدے دینے والے بھی تو محنتیں چاہتے ہیں ۔ امتحان ۱ ؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۹۔۵۰صفحہ ۳ مورخہ ۲۶ ‘۳۰ اگست ۱۹۰۸ئ؁