لیتے ہیں ۔ بصورت کامیابی اورپھر عمدہ کارگذاری سے کچھ ملتا ہے ۔ اسی طرح اگر وہی محنت دوسرے رنگ میں خدا کے واسطے کی جاوے تو اجر یقینی ہیں ۔ نہ دین جاوے اور نہ دنیا ۔ بلکہ بیک کرشمہ دوکاروالی بات ۔ نالے حج نالے ونج کا معاملہ ہوجاوے مگر کم ہیں جو ان باتوں سے فائدہ اٹھاتے ہین ۔ انسان کو چاہئیے کہ دعامیں لگا رہے اور کسی قدر تبدیلی اپنے اندر پیداکرنے کی کوشش کرے ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ توفیق دیدے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ زراعت والا زراعت کو اورتجارت والا تجارت والا ملازمت کو اور صنعت وحرفت والا اپنے کاروبار کو ترک کردے اور ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ جائے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ (النور :۳۸)والا معاملہ ہو۔ دست باکاردل بایاروالی بات ہو ۔ تاجر اپنے کاروبار میں اورزمیندار اپنے امور زراعت میں اوربادشاہ اپنے تخت حکومت پر بیٹھ کر ‘غرض جو جس کام میں ہے اپنے کاموں میں خداکو نصب العین رکھے اور اس کی عظمت اورجبروت کو پیش نظر رکھ کر اس کے احکام اوراوامر ونواہی کا لحاظ رکھتے ہوئے جو چاہے کرے۔ اللہ سے ڈر اور سب کچھ کر ۔ اسلام کہاں ایسی تعلیم دیتا ہے کہ تم کاروبار چھوڑ کر لنگڑ لولوں کی طرح نکمے بیٹھے رہو اوربجائے اسکے کہ اوروں کی خدمت کرو خود دوسروں پر بوجھ بنو ۔ نہیں بلکہ سست ہونا گناہ ہے۔ بھلا ایسا آدمی پھر خدا اوراس کے دین کی کیا خدمت کرسکے گا۔ عیال واطفال جو خدانے اس کے ذمے لگائے ہیں ان کو کہاں سے کھلائے گا۔ پس یاد رکھو کہ خداکا یہ ہرگز منشا نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کردو ۔بلکہ اس کا جو منشاء ہے وہ یہ ہے کہ تدانلح من رکھا(الشمس:۱۰)تجارت کرو‘زراعت کرو‘ملازمت کرو‘اورحرفت کرو ‘جو چاہو کرو مگر نفس کو خداکی نافرمانی سے روکتے رہو اور ایسا تزکیہ کرو کہ یہ امور تمہیں خداسے غافل نہ کردیں ۔ پھر جو تمہاری دنیا ہے یہی دین کے حکم میں آجاوے گی ۔ انسان دنیا کے واسطے پیدا نہیں کیا گیا ۔ دل پاک ہواور ہر وقت یہ لو اور تڑپ لگی ہوئی ہوکہ کسی طرح خدا خوش ہوجائے توپھر دنیا بھی اس کے واسطے حلال ہے۔انما الاعمال بالنیات۔۱؎ بعد نماز جمعہ مسیح موعود ؑ کو ماننے کی ضرورت سوال کیا گیا کہ ہم اللہ اوراس کی کتاب قرآن شریف اوراس کے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو ۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۹۔۵۰ صفحہ ۳۔۴ مورخہ ۲۶ /۳۰اگست ۱۹۰۸ئ؁