مرجائے ۔ اب زمانہ ہی ایسا آگیا ہے کہ خیال تبدیل ہوتے ہیں ۔ کچھ مان جائیں گے کچھ مرجائیں گے ۔ باقی ایسے ضعیف ہوجائیں گے کہ ان کو طاقت ہی نہ رہے گی اوران کا عدم وجود برابر ہوگا ۔ پس مسیح کو مرنے دوکہ اسلام کی زندگی اسی میں ہے ۔
قروتنی کرنیوالا خدا کا محبوب ہوتا ہے
فرمایا :۔
متکبر خدا تعالیٰ کے تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے پس اس قبیح خصلت سے ہمیشہ پناہ مانگو ۔خداتعالیٰ کے تمام وعدے بھی خواہ تمہارے ساتھ ہوں مگر تم جب بھی فروتنی کرو۔ کیونکہ فروتنی کرنے والا ہی خداتعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے ۔ دیکھو ہمارے نبی کریم ﷺ کی کامیابیاں اگر چہ ایسی تھیں کہ تمام انبیائے سابقین میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ مگر آپ کو خداتعالیٰ نے جیسی جیسی کامیابیاں عطا کیں آپ اتنی ہی فروتنی اختیار کرتے گئے ۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص آپ کے حضور پکڑ کر لایا گیا۔ آپ نے دیکھا تو وہ بہت کانپتا تھا اورخوف کھاتا تھا مگر جب وہ قریب آیا توآپ نے نہایت نرمی اور لطف سے دریافت فرمایا کہ تم ایسے ڈرتے کیوں ہو ؟آخر میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں اور ایک بڑھیا کا فرزند ہوں۔
خداتعالیٰ کی حکمتوں کو کوئی نہیں پاسکتا فرمایا :۔
جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو فیصلہ کو خدتعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے ۔ہمیں چھبیس سال ہوئے تبلیغ کرتے اورجہاں تک ممکن تھا ہم ساری تبلیغ کرچکے ہیں اب وہ خود ہی کوئی ہاتھ دکھلاوے اورفیصلہ کرے ۔ پس جس نے یہ شرط کرلی ہو کہ میں نے تو اس شخص کو ماننا ہی نہیں خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوا اوراس کا غبار حد سے بڑھ گیا ہوتو اس کا حال خدا ہی کے سپر د ہے اسکے پیچھے نہیں پڑنا چاہئیے ۔ خدا کی حکمتوں کو کوئی نہیں پاسکتا ۔ یہ خدائی تصرفات ہیں جس کو چاہے اپنی طرف کھینچ لے اور جس کو چاہے رد کردے ۔
دیکھو آنحضرت ﷺ کا وجود دنیا کے واسطے رحمت تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ومآ ارسلنا ک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء :۱۰۸) مگر کیا ابوجہل کے واسطے بھی آپ رحمت ہوئے ؟وہ لوگ تو خیال کرتے ہوں گے کہ ابھی یہ ایک یتیم بچہ تھا ۔ بکریاں چرایا کرتا تھا ۔ کمزور اور غریب تھا ۔ نکاح تک بھی تومیسر نہ آیا ۔ غرض کچھ ایسے ہی خیالات ان کے دل میں آتے ہوں گے مگر ان بدقسمتوں کو کیا خبر تھی کہ ایک دن