مسلمانوں میں لازماًپائے جاتے ہیں مگر اب تو ان صفات سے لوگ بھی محروم ہوگئے ہیں۔ نماز بھی پڑھتے ہیں تو بہت ہی کم ۔ مسجدیں ویران پڑی ہیں۔ نمازی کوئی نظرنہیں آتا ۔ ایک وقت تھا کہ نمازیوں کو مسجدیں نہ ملتی تھیں ۔جتنے پڑھتے ہیں ان میں بھی اکثر دکھلاوے کی نماز پڑھتے ہیں کیونکہ حقیقی نماز کے آثار برکات اور ثمرات سے محروم ہیں عیسائی توحضرت مسیح کوپھانسی دے کر بے فکر ہو بیٹھے تھے اکثر مسلمان حضرت امام حسین ؓ کی شہادت میں نجات پاچکے ہیں ۔ شہوات کی آگ بجھانے کا ذریعہ فرمایا :۔ جسمانی شہوات کے دلدل میں سے نکلنا ہی مشکل ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کے واسطے مقدر کیا ہو تا ہے کہ اسے سعادت میں سے کوئی حصہ عطافرماوے تو اس کے واسطے کوئی ایسا عجوبہ اور خارق عادت نشان یا پنی کوئی دل کو پکڑ لینے والی تجلی دکھادیتا ہے بجز اس کے دلوں کی گندگی کی دھوئی نہیں جاتی اور شہوات کی آگ بجھائی نہیں جاتی ۔ غفلت اوربے باکی کے آثار فرمایا :۔ جس قدر کسی کو دنیا کے سامان عیش وعشرت سے دیئے جاتے ہیں اسی قدر وہ خدا سے غافل اور بے پرواہوکر متکبر ہوجاتے ہیںا ور اسی قدر اس کا تکبر بڑھ جاتا ہے ۔امر تسر میں ہمیں پتھر مارے گئے ۔ سیالکوٹ میں ہمارے ساتھ کیا براسلوک کیا گیا ۔ یہ سب غفلت اوربے باکی ہی کی آتارہیں۔ ایک خدائی وعدہ فرمایا :۔ خدا نے ہمیں ایک پکا وعدہ دیا ہوا ہے ۔ اس میں ذرابھی شک نہیں اور وہ یہ ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ‘‘ اس الہام کے بعد وہ بادشاہ بھی دکھائے گئے تھے ۔ مسیح ؑ کے مرنے میں اسلام کی زندگی ہے فرمایا :۔ مسلمانوں کی خوش قسمتی ہی اس میں ہے کہ مسیح