مسلمانوں کو اول قرآن شریف ہی کی طرف رجوع کرنا چاہئیے ۔ حضرت عیسیٰؑ علیہ السلام کی حیات ابدی کی کوئی دلیل اگر ان کے پاس ہے تو ان کو چاہئیے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت پیش کریں ۔ مگر قرآن شریف میں جب ہم اس غرض کے لئے غور کرتے ہیں تو ہمیں تو ان کے حق میں خداتعالیٰ کا یہی کلام ملتا ہے کہ انی متوفیک (ال عمران ۵۶)فلما توفیتنی (المائدۃ :۱۱۸)اب جائے غور ہے کہ آیا یہ لفظ قرآن شریف میں کسی اور نبی کے حق میں بھی آیا ہے یا کہ نہیں ؟سو ہم صاف پاتے ہیں کہ اورانبیاء اورہمارے سید ومولیٰ محمد مجتبیٰ احمد مصطفیٰ ﷺ کے حق میں بھی یہی لفظ توفی کا استعمال ہوا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اما نرینک بعض الذی نعدھم اونتوفینک (یونس :۴۷)اورپھر حضرت یوسف علیہ السلام کے حق میں بھی یہی لفظ نظر آتا ہے توننی مماوالحقنی بالصالحین (یوسف :۱۰۲)اب ہم پوچھتے ہیں کہ ہمیں کوئی اس خصوصیت کی وجہ تو بتادے کہ کیوں یہ لفظ اور انبیاء پر تو موت کے معنوں میں وارد ہوتا ہے اورکیوں حضرت عیسیٰؑ کے حق میں آوے تولفظ کی یہ خاصیت بدل جاتی ہے اوریہ لفظ موت کے معنے نہیں دیتا ۔ان کو چاہئیے کہ تعصب کو الگ کرکے ایک گھڑی بھرکے لئے جو ہوکر اس میں غورکریں۔
گالیاں دینا تو ان لوگوں کا ایک فرض ہوچکا ہے سودے لیں ۔ مگر اب ہمیں شوق ہے تو صرف یہی کہ آیا تقویٰ اورخشیت الہٰی کو مدنظر رکھ کر اس فرقہ کے منہ سے کوئی علمی بات بھی نکلتی ہے ؟مگرافسوس یہ بات کبھی پوری نہ ہوئی ۔ جو حق پر ہوتا ہے اس کے ساتھ خدا کی تائید اورنصرت ‘اس کے کلام میں قوت اورشوکت اور اس کے انفاس میں ایک جذب ہوتا ہے ۔
فرمایا :۔
حیات کا مسئلہ ان کو مبارک نہ ہوا ۔کیونکہ ان میں سے بہت سے حیات حیات ہی پکارتے بصد حسرت وارمان گذر گئے مگر حیات مسیح نے ان کی کوئی مدد نہ کی ۔
اتنے میں گھنٹی بجی ۔ وسل ہوا۔ اورگاڑی لاہور کو چل دی ۔ ۱؎
۳۰اپریل ۱۹۰۸ئ
بمقام لاہور ۔ احمدیہ بلڈنگز
موجود ہ مسلمانوں کی حالت
فرمایا :۔ صدق وصفا ‘تقویٰ طہارت ‘یہ اسلام کے برکات تھے جو کہ
؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۶ صفحہ ۴۔۵مورخہ ۶ اگست ۱۹۰۸ئ