۲۹ اپریل ۱۹۰۸ء
اہل امر تسر کی عقیدت مندی اور اخلاص
۲۹ اپریل ۱۹۰۸ئ کو جبکہ بٹالہ سے لاہور کو جانے والی ٹرین امرت سر پہنچی جس میں حضرت اقدس خلیفۃ اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الف الف صلوٰۃ وسلام رونق افروز تھے اورمخلصین جماعت احمدیہ امر تسر صدق اور عقیدت مندی کا ایک نہ رکنے والا جوش اوراپنے آقا ومولا کی زیارت کے واسطے شوق بھرے دل لئے ہوئے پہلے ہی سے سٹیشن پر موجود تھے ۔ ٹرین کے کھڑا ہوتے ہی تمام عقیدت مندان مخلص آگے بڑھ بڑھ کر سعادت مصافحہ اور شرف حضوری حاصل کرتے تھے ۔ ہر کوئی یہی چاہتا تھا کہ میں آگے بڑھوں اور ان کے دلوں کا شوق عقیدت ان کے چہروں سے نمایاں تھا۔ جذب جو خاصہ خاصان خدااور علامت بندگان عالی ہوتی ہے اوروہ خدا کی طرف سے آنے والوں کو بطور نشان کے عطا ہوتا ہے اس کا یہ عالم تھا کہ سٹیشن بھر کے جس انسان کے کان میں آپ کانام پہنچا اس کے دل میں شوق زیارت نے گدگد ی کی اوروہ بے تحاشا بھاگا چلا آیا ۔ وہ سلامتی کا شہزادہ اورمحبوب خدا سیکنڈ کلاس ڈیپارٹمنٹ ۱؎ میں متکمن تھا۔ جلال و شوکت اور رعب ووقار ‘شہادت صداقت اداکرنے کے واسطے حضوری میں حاضر کھڑے تھے ۔ لوگ آتے اورزیارت کرکرکے چلے جاتے تھے ۔ اہل ہنود اورسکھ صاحبان اپنے طرز میں اور مسلمان اپنے طریق سے سلام ونیازعرض کرتے تھے ۔ پلیٹ فارم کی جانب پلیٹ فارم پر اورگاڑی کے دوسرے پہلو سے لوگ پائیدانوں پر کھڑے کھڑکیوں میں سے حضور پر نور کی صورت دیکھنے کے واسطے شوق سے جھانکتے تھے ۔ سیری کسی کو نہ ہوتی تھی ۔ اتنے میں ایک مسلمان صاحب مع چند آدمیوں کے تشریف لائے ۔ حضرت اقدس نے ان کو گاڑی کے اندر بلا کر اپنے پاس بٹھا لیا اور ان کے سوال پر ان کو یوں مخاطب فرمایا :۔
وفات وحیات مسیح میںقرآن کریم سے فیصلہ لینا چاہئیے
خدا تعالیٰ کی شہادت سب سے پہلے زیادہ معتبر ہے خداتعالیٰ کاپاک کلام قرآن شریف ہمارے پاس موجود ہے ۔ مسائل مختلفہ میں فیصلہ کرنے اور حق پانے کے واسطے
۱؎ نقل مطابق اصل