کرتے ۔ پروا نہیں کرتے ۔ حضرت موسیٰؑ کے کافر ہی اچھے تھے کہ جب ان پرعذاب نازل ہوتے تھے ‘ تب تو توجہ کرتے تھے اورکہتے تھے کہ اگر یہ ٹل جاوے تومان لیں گے ۔ مگر آجکل کے کافران سے بھی زیادہ سخت جان ہیں کہ نت نئے عذاب آتے ہیں ۔نئی نئی صورت میں خدا کا قہر نازل ہوتا ہے مگر یہ ہیں کہ کان پر جوں نہیں چلتی ۔ دیکھو ایک طاعون نے ہی کیسے کیسے خطرناک حملے کئے ۔ کیسی کیسی جانگداز تباہیاں واقع ہوئی ہیں کہ ان کا ذکر سننے سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں مگر کسی پر اثر نہیں ہوا۔ وہ لوگ تھے کہ ایسے اوقات میںحضرت موسیٰؑ سے دعا کرایا کرتے تھے مگر یہ لوگ ہیں کہ کہتے ہیں کوئی نہیں معمولی بات ہے ایسا ہواہی کرتا ہے اورایسے عذاب آیا ہی کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کا قدیم سے یہ وعدہ تھا کہ آخر ی زمانہ میں طرح طرح کے عذاب آویں گے اس وقت بعض ہدایت پاجاویں گے اوراکثر ہلاک ہوں گے ۔ نشان تو خدادکھاتا ہے مگر نشان سے بھی فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو مومن ہوتے ہیں اور وہ قلیل ہیں ۔
ایک شخص ہمارے پاس آیاتھا ۔ اس نے ذکر کیا کہ ہمارے شہر میں طاعون نے سخت تباہی ڈالی ہے ۔ بہت لوگ تیار ہیں کہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر توبہ کریں اور اصل بات یہی ہے کہ مجھے بھی طاعون ہی حضور کے پاس لائی ہے ۔ اس سال طاعون کسی قدر کم ہے اس وجہ سے دل بھی سخت ہیںدلیر ہیں ۔ مگر کسی کو علم کیا ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے ؟پس مطمئن نہیں رہنا چاہئیے اورقبل اس کے کہ عذاب نازل ہوجاوے توبہ کرنی چاہئیے اورخداتعالیٰ کی طرف جھکنا اورحفاظت طلب کرنی چاہئیے مگر یہ سب کچھ اسی کی توفیق سے ہوسکتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات شیطان بڑے بڑے وسوسے پیدا کردیتا ہے ۔ میرے رشتے ناطے ٹوٹ جاوینگے میرے جاہ وعزت میں فرق آجاوے گا یا وجوہ معاش بند ہوجاویں گے یا میرے حکام مجھ سے ناراض ہوجاویں گے مگر یادرکھو کہ ہدایت کے قبول کرنے سے یہ سب امور روکتے نہیں ۔
گورنمنٹ کو توکسی مذہب سے کچھ سروکارہی نہیں اورپھر خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے اصول ہی ایسے نہیں کہ گورنمنٹ ان سے ناراض ہو۔ باقی رہی یہ بات کہ رشتے ناطے ٹوٹ جاویں گے یا معاش میں فرق آجاویگا سویادرکھنا چاہئیے کہ انسان جب خداتعالیٰ کے واسطے کچھ چھوڑتا ہے اوراپنے اوپر مشکلات برداشت کرتا ہے توخداتعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ہر حال میں اس کا خود مدد گار اورکارساز ہوجاتا ہے ۔۱؎
۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۱ صفحہ ۱تا ۳ مورخہ ۶ مئی ۱۹۰۸ء