اس پاک جو ہر کو شرارت یا تعصب کی کدورت سے مکدرنہ کردے ۔ نیک طبع حکام کو اللہ تعالیٰ تائید غیبی سے بعض ایسے امور میں جن میں حق وبا طل پوشیدہ ہوتا ہے حق ظاہر کردیتا ہے اورفراست صحیحہ سے وہ اس امر کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں ۔پھر ان کو دلائل کی بھی ضرورت نہیں رہتی ۔
ہمارے اس مقدمہ کی حالت جوڈ گلس کے سامنے پیش ہوا تھا اس میں غور کرنے والے کے واسطے کئی نشان موجود ہیں ۔
اصل بات یہ ہے کہ فراست اچھی چیز ہے ۔ انسان اندر ہی اندر سمجھ جاتا ہے کہ یہ سچا ہے ۔ سچ میں ایک جرات اوردلیری ہوتی ہے ۔ جھوٹا انسان بزدل ہوتا ہے ۔ وہ جس کی زندگی ناپاکی اور گندے گناہوں سے ملوث ہے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے اورمقابلہ نہیں کرسکتا ۔ ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرات سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کرسکتا اوراپنی پاکدامنی کاثبوت نہیں دے سکتا ۔ دنیوی معاملات میں ہی غور کرکے دیکھ لو کہ کون ہے جس کو ذرا سی بھی خدانے خوش حیثیتی عطاکی ہو اوراس کے حاسد نہ ہوں ۔ ہر خوش حیثیت کے حاسد ضرور ہوجاتے ہیں اورساتھ ہی لگے رہتے ہیں ۔یہی حال دینی امور کا ہے ۔ شیطان بھی اصلاح کا دشمن ہے ۔ پس انسان کو چاہئیے کہ اپنا حساب صاف رکھے اورخدا سے معاملہ درست رکھے ۔ خداکو راضی کرے ۔ پھر کسی سے نہ خوف کھائے اور نہ کسی کی پروا کرے ۔ ایسے معاملات سے پرہیز کرے جن سے خود ہی مورد عذاب ہوجاوے مگر یہ سب کچھ بھی تائید غیبی اور توفیق الہٰی کے سوانہیں ہوسکتا ۔ صرف انسانی کوشش کچھ بنا نہیں سکتی جب تک خداکا فضل بھی شامل حال نہ ہو۔ خلق الانسان ضعیفاً (النسآء :۲۹)انسان ناتواں ہے ۔غلطیوں سے پرہے ۔ مشکلات چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں ۔ پس دعا کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا کرے اور تائیدات غیبی اور فضل کے فیضان کا وارث بنادے ۔
توکل
اصل میں توکل ہی ایک ایسی چیز ہے کہ انسان کو کامیاب وبامراد بنادیتا ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ من یتوکل علی اللہ فھو حسبہ (الطلاق :۴)جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو کافی ہوجاتا ہے بشر طیکہ سچے دل سے توکل کے اصلی مفہوم کو سمجھ کر صدق دل سے قدم رکھنے والا ہو اورصبر کرنے والا اور مستقل مزاج ہو۔ مشکلات سے ڈر کر پیچھے نہ ہٹ جاوے ۔ دنیا گذشتنی اورگذاشتنی ہے اور اس کے کام بھی ایسے ہی ہیں ۔ پس انسان کو لازم ہے کہ اس کا غم نہ کرے اورآخرت کا فکر زیادہ رکھے ۔ اگر دین کے غم انسان پر غالب آجاویں تو دنیا کے کاروبار کا خود خدامتکفل ہوجاتا ہے ۔
عذاب نازل ہونے سے پہلے توبہ کرنی چاہئیے
افسوس سے بڑے بڑے حوادث روزہوررہے ہیں مگر لوگ ہیں کہ توجہ نہیں