بھی مسلمانوں کا ایک امتحان ہورہا ہے ۔خداتعالیٰ نے ایک مامور بھیجا ہے اوراس کے ساتھ ہزاروں زمینی اور آسمانی نشانات اورتائیدات کرکے روشن نشانوں سے دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہے اب بھی لوگوں کے ایمان کا امتحان ہے ۔ اب بھی یکر م المرء اویھان کا نظارہ موجود ہے ۔پس مبارک وہ جوخدائی امتحان کی فکر رکھتے ہیں اورپھر مبارک وہ جو خدائی امتحان میں پاس ہوتے ہیں ۔ خداکا کلام ٹکڑے ٹکڑے نازل ہوتا ہے پھر اسی شخص نے سوال کیا کہ یہ جو بڑی بڑی سورتیں قرآن شریف میں موجود ہیں کیا یہ یکبارگی نازل ہوگئی تھیں ؟ فرمایا کہ :۔ خداتعالیٰ کا کلام ہمیشہ ٹکڑے ٹکڑے نازل ہوتا ہے اور پھر پورا حصہ بن جاتا ہے ۔ ہم ا س معاملہ میں صاحب تجربہ ہیں ۔ جس طر ح سے اب اترتا ہے اسی طرح پہلے اترتا تھا۔ اس میں اعتراض کی بات ہی کیا ہے اورخلاف قانون کس امر کو کہا جاتا ہے ۔خلاف قانون توجب کوئی کہہ سکتا ہے کہ کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے سارے اسرار کا مطالعہ کرلیا ہے اور سارے قانون قدرت کا اس نے احاطہ کرلیا ہے ۔ پھر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فلاں امر قانون قدرت کے خلاف ہے ۔مگر جب خداتعالیٰ کی قدرت کا کوئی انتہاء ہی نہیں پاسکا توپھر یہ دعویٰ کیسا ؟ہمارے الہامات کی کتاب تو بنیاد ہی ہے ۱؎ مگر شریعت نہیں ہے ۔ شریعت وہی ہے جو آنحضرت ﷺ لائے اور جو قرآن شریف نے دنیا کو سکھلائی ۔ ایک نقطہ نہ گھٹایا گیا نہ بڑھایا گیا ہے ۔ خداتعالیٰ اب بھی کلام کرتا ہے خداتعالیٰ جس طرح پہلے دیکھتا تھا اب بھی دیکھتا ہے اسی طرح جس طرح پہلے کلام کرتا تھا اب بھی صفت تکلم اس میں موجود ہے ۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اب خداتعالیٰ کلام نہیں کرتا ۔ کیا خیال کیا جاسکتا ہے کہ پہلے تو خداسنتا تھا مگر اب نہیں سنتا ۔ پس اللہ تعالیٰ کی تما م صفات جو پہلے موجود تھیں ۔ اب بھی اس میں پائی جاتی ہیں ۔ خداتعالیٰ میں تغیر نہیں ۔ شریعت چونکہ تکمیل پاچکی ہے۔ لہٰذا اب کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اکملت لکم دینکم (المائدۃ :۴)پس اکمال دین کے بعد اورکسی نئی شریعت کی حاجت نہیں ۔ فراست فرمایا :۔ خداتعالیٰ جس کو حکومت دیتا ہے اسے فراست بھی عطا فرماتا ہے بشر طیکہ وہ خود اپنے ۱؎ سہوکتابت سے عبارت مشتبہ ہوگئی ہے ۔غالباً اصل فقرہ یوں ہوگا ’’ہمارے الہامات کی تو کتاب پر بنیاد ہے اور یہ شریعت نہیں ہے ‘‘ (مرتب )