اس میں رحمت ہے ۔ البتہ ایک حدتک جب خدا کو منظور ہوگا خود بخود اتفاق اوراتحاد بھی پیدا ہوجاوے گا۔ مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہمیشہ شامل حال رہا ہے کہ خداتعالیٰ ان کو گرنے کے وقت سنبھال لیتا ہے حالانکہ اورقومیں اس سے محروم ہیں ۔مشکلات بھی دن اوررات کی طرح ہر قوم کے ساتھ دورہ کرتی ہیں ۔ مگر خداتعالیٰ نے ہمیشہ مسلمانوں کو ایسے اوقات میں تائید غیبی سے سنبھال لیا ہے ۔ جس صلح کے آپ خواہش مند ہیں وہ تو ہمارے خیال میں نفاق ہے اورہم ایسی صلح کے دشمن ہیں ۔ یہ کہنا کہ انگریز قوم بڑی علم دوست ہے ۔کیسی ایک بیہودہ بات ہے ۔ علم بھی ایک طاقت ہے ۔ انسان اس طاقت کے ذریعہ سے ہر ظلمت اور ذلیل عقائد سے بچ جاتا ہے ۔ ان کا علم کیاخاک علم ہے کہ ایک ناتواں کمزور اور ضعیف انسان جو کہ معمولی انسانوں کی طرح ماں کے پیٹ سے قانون قدرت کے موافق پیدا ہوا۔ اوردنیوی سختیوں اورتلخیوں سے بچنے کی مشکلات برداشت کرتا ہواآخر یہودیوں کے ہاتھ سے طرح طرح کی ذلتیں سہتا اورماریں کھاتا ہوا سولی پر چڑھایا گیا۔ ایسے ایک انسان کو خدا بنالیا۔ کیا علم اسی کانام ہے ؟ ہاتھی کے دانت کھانے کے اوردکھانے کے اورجب کوئی بادشاہ بنتا ہے تو اس سے قسماً عہد لیا جاتا ہے کہ وہ انجیل کے احکام کی پیروی کرے گا۔ کیا اسی کا نام ہے کہ انگریز علم دوست ہوتے ہیں؟ سائل نے کہا کہ ہروقت ان کے ہاتھ میں کتاب یا اخبار موجود رہتی ہے ۔ فرمایا ـ:۔ جو شخص علوم حقیقی اورالہٰیات سے بے نصیب محض ہو اس کو علم دوست نہیں کہا جاسکتا ۔ ایمان کا امتحان طلباء کے امتحان کا ذکر ہونے پر فرمایا :۔ عندالا متحان یکرم المرء اویھان فرمایا :۔ اصل میں لڑکے بھی معذور ہیں ۔ امتحان کے مشکلات بہت سخت ہوتے ہیں ۔ جب دنیوی امتحانوں کا یہ حال ہے توپھر دینی امتحان کا کیا حال ہے ۔ انسان دنیوی امتحان کے واسطے کیا کیا تیاریاں کرتا ہے اورکسقدر فکر اورعلم اس کو ہوتا ہے اورکیسی کیسی شاقہ محنت برداشت کرتا ہے ۔ بے فکر ی ہے تو کس سے ؟دینی امتحان سے نہیں محنت کی جاتی تو کس کے واسطے ؟دین کے امتحان کے واسطے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احسب الناس ان یترکو آان یقولو آامنا وھم لایفتنون (العنکبوت :۳)اللہ تعالیٰ بھی ایک امتحان کی طرف متوجہ کرتا ہ ے۔اس کا بھی کچھ فکر کرنا چاہئیے اوراس امتحان کے واسطے بھی کچھ تیاری کرنی ازبس لازمی ہے ۔دیکھو ہر صدی کے سرے پر جو ایک مجدد آتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان ہی ہوتا ہے ۔اب اس وقت