غیرت یہ چاہ سکتی ہی نہیں کہ وہ نفاق کرتا ہے ۔ ابھی تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ ایک انگریز سیاح امریکہ سے ہمارے پاس آیا تھا ہم نے اس سے سوال کیا کہ آپ لوگ جو اتنی جان توڑ کوششیں کرتے ہوکہ لوگ آپ کا مذہب قبول کرلیں اورساری دنیا کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں بھلا آپ یہ تو فرمائیں کہ عیسائی ہوکر آپ لوگوں نے کیا بنایا ہے کہ دوسرے وہ فائدہ اٹھاویں گے ۔ فسق وفجور میں عیسائی قوم نے جوترقی کی ہے وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ۔اکثر حصہ اس قوم کا ایسا ہے کہ خدا سے بھی برگشتہ ہے اور گویا کہ اپنے فعل سے بتارہا ہے کہ خداکی ان کو ضرورت ہی نہیں ۔ اب کہئے کہ آپ ایک ایسی قوم کے کس طرح حامی بنتے ہیں جو خود ایسا اقرار کرتے ہیں۔ آپ کس طرح مسلمانوں سے ایسی خطرناک عادات اورفسق وفجور میں غرق شدہ قوم کی تقلید کرانا چاہتے ہیں جن پر خوف ہے کہ ان اعمال بدر کی وجہ سے عذاب نازل ہو۔ خداتعالیٰ تقویٰ طہارت کو چاہتا ہے ۔ہم مانتے ہیں کہ مسلمان بھی فاسق ہیں ‘فاجر ہیں ‘مگر اس قوم کے مقابلہ میں نسبتاً دیکھا جاوے تو صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی زندگی ان کے مقابلہ میں ہزار درجہ بہتر ہے ۔خداتعالیٰ نے مسلمانوں میں توحید کی برکت سے یہ فسق وفجور اور بے غیرتی پید انہیں ہونے دی۔ خود بعض انگریز مصنفوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ مسلمان قوم دنیا میں غنیمت ہے اورعیسائی اقوام کے مقابلہ میں انکی زندگی ہزار درجہ بہتر ہے ۔ عیسائی قوم کے واسطے کفارہ کی جوراہ کھلی ہے اس کے ذریعہ سے اس قوم میں کونسا گناہ ہے جوجرات اوردلیری سے کیا نہیں جاتا ؟اوروہ کونسی بدی ہے جس کے کرنے سے کسی عیسائی کو کوئی روک پیدا ہوسکتی ہے ؟اصل میں کفارہ کا عقیدہ ہی ان میں ایسا ہے کہ سارے حرام ان کے واسطے حلال ہوگئے ورنہ کفارہ باطل ہوتا ہے ۔ نورافشاں جو عیسائیوںکا ایک معتبر اخبار ہے اسی میں ایک دفعہ لکھا گیا تھا کہ مسلمانوں میں ان کی عبادت گاہوں اورمساجد میں ایک ادنیٰ مسلمان بادشاہ وقت کے برابر بلکہ اس کے آگے کھڑا ہوسکتا ہے اوردنیوی ثروت اور جاہ وجلال کا کوئی اثر ان کی مسجدوں میں باقی نظر نہیں آتا ۔ حالانکہ عیسائیوں میں ایک خاص یورپ کا عیسائی کبھی ویسی عیسائیوں سے گرجا میں بھی اکٹھا نہیں ہوسکتا ۔حتیٰ کہ ان میں گرجامیں بھی کرسیوں کے درجے موجود ہوتے ہیں ۔ غرض مسلمانوں میںبڑی بڑی برکات ہمیشہ موجود رہتی ہیں اور اب بھی ہیں ۔ آپ ان معاملات میں غور کریں اوراپنے علم کو بڑھا ویں ۔ بغیر معلومات وسیع کے آپ کو ایسا دعویٰ نہیں کرنا چاہئیے کہ عیسائی مسلمانوں سے نیکی ‘تقویٰ ‘طہارت میں بڑھے ہوئے ہیں ۔ہر امر میں حکم نسبتاً لگا یا جاتا ہے ۔ مسلمان نسبتاً ان سے نیکی میں تقویٰ میں ‘طہارت میں ‘خدا ترسی میں بہت آگے بڑھے ہوئے ہیں ۔ باقی رہی یہ بات کہ مسلمانوں میں باہمی اتفاق نہیں ہے سواس کے متعلق تواللہ تعالیٰ کا خود بھی منشاء ہے اور