جمعاً کی پیشگوئی کے پوراہونے کا بھی یہی زمانہ ہے ۔۱؎
۲۷ اپریل ۱۹۰۸ئ
بمقام بٹالہ (دوران سفر لاہور )
توحید کی برکت سے مسلمان معاشرہ کی خوبیاں
ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور کیا اچھا ہوکہ اگر کوئی ایسی سبیل ہوجاوے کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف اٹھ جاوے اور جس طرح دیگر اقوام دنیوی معاملات میں اپنی یکجائی اورمتفقہ کوششوں سے کامیاب ہورہے ہیں مسلمان بھی کم از کم دنیوی معاملات میں تومل کرکام کریں وغیرہ وغیرہ ۔
حضرت اقدس (علیہ السلام )نے فرمایا :۔
خداتعالیٰ نے تو کہا ہے کہ اختلاف ہمیشہ رہے گا تو پھر انسا ن کون ہے جو اس اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے ؟اصل میں غور سے دیکھا جاوے تو اندرونی اتحاد توانگریزوں میں بھی نہیں ہے ۔ انہی میں سے بعض لوگ تو ایسے ہی جو حضرت عیسیٰؑ کو نعوذباللہ خدامانتے ہیں ۔ بعض ایسے ہیں جو موحد ہیں وہ ان کو صرف ایک رسول خداکا یقین کرتے ہیں اور پھر بعض انہی میں ایسے بھی موجود ہیں کہ وہ نہ عیسیٰؑ کو مانتے ہیں نہ خداکو ‘دہر یہ ہیں ۔ البتہ فرق یہ ہے کہ کسی نے تو درندگی سے اپنے ان عقائد کا اظہار کیا ہے اور بعض نے ذرانرمی سے اظہار کیا ہے ۔ پس جب سب کا اختلاف ہے تو باوجود اس اختلاف کے کسی کی ہاں میں ہاں ملانے کے تویہی معنے ہیں کہ انسان نفاق کاطریق اختیار کرے ۔ مگر اللہ تعالیٰ اس امت کو منافق نہیں بنانا چاہتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو نفاق سے ڈراتا ہے اور اس طریق زندگی کو بدترین حالت بیا ن فرماتا ہے ۔ ان المنا فقین فی الدرک الاسفل من النار (النسآئ:۱۴۶)کسی پکے مسلمان کی غیرت اورحمیت یہ کب گواراکرسکتی ہے کہ اپنے معتقدات اورمذہبی مسلمہ پیارے عقائد کے خلاف سن سکے یا ان کی توہین ہوتی دیکھ سکے یا ایسے لوگوں سے جو اس کے بزرگوں کو جن کو وہ دین کا پیشوا یقین کرتا ہے براکہنے والے یا گالیاں دینے والوں سے سچی محبت اوراتفاق رکھ سکے ۔ ہمارے نزدیک توایسا انسان جو بایں ہمہ کسی سے محبت ومودت رکھتا ہے دنیا کا کتا اور منافق ہے کیونکہ ایک سچے مسلمان کی
۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰ صفحہ ۲ مورخہ ۲۶ اپریل ۱۹۰۸ئ