اسْتَجِبْ لَکُمْ (المومن : ۶۱)تمدعا مانگو میںتمہیں جواب دوں گا۔ دوسری آتی میں فرمایا ہے ۔ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ۔۔۔ الخ(البقرۃ :۱۵۶) یعنی ضرور ہے کہ تم پر قسما قسم کے ابتلاء پڑیں اور امتحان آئیں اور آزمائشیں کی جاویں تاکہ تم انعام حاصل کرنے کے مستحق ٹھہرو۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتاہے لیکن جو لوگ استقامت اختیار کرتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ دُعا کے بعد کامیابی اپنی خواہش کے مطابق ہو یا مصلحتِ الٰہی کوئی دوسری صورت پیدا کردے ہر حال میں دُعا کا جواب ضرور خدا تعالیٰ کی طرف سے مل جاتاہے ۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ دُعا کے واسطے اس کی حدتک جو ضروری ہے تضرع کی جاوے اور پھر جواب نہ ملے۔ گناہوں سے بچنے کا واحد ذریعہ : ۔ گناہوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ خوف الٰہی دل میں پیدا ہو ۔ بغیر اس کے انسان گناہوں سے بچ نہیں سکتا اور خوف بغیر معرفت کے پید انہیں ہو سکتا جب کسی کے سر پر ننگی تلوار لٹک رہی ہو اور اس کو یقین ہو کہ اگر فلاں کام میں کروں گا تو یہ تلوار میرے سر میں لگے گی پھر وہ کس طرح وہ کام کر سکتا ہے ؟اس کو یقین ہے کہ وہ تلوار اس کو دُکھ دے گی۔ اس قسم کا یقین اگر خدا تعالیٰ پر ہو اور اس کی عظمت اور اس کا جلال اس کے دل میں گھر کر جائے تو کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ بدی کا ارتکاب کرے۔ خدا تعالیٰ کی یہ سنت نہیں کہ وہ انسان کی طرح کسی کو اپنا چہرہ دکھائے۔ بلکہ وہ زبردست نشانات کے ساتھ اپنی ہستی کا ثبوت دیتاہے ۔ جب ۴۔اپریل کو زلزلہ آیا تو ہمارے عزیز محمد اسمٰعیل میڈیکل کالج میں پڑھتے تھے وہ ذکر کرتے ہیں کہ اُن کے کالج میں ایک لڑکا دہریہ تھا جب زلزلہ آیا تو وہ بھی رام رام پکارنے لگا ۔ لیکن جب زلزلہ گذر گیا اور ہوش ٹھکانے لگے تو پھرکہنے لگا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے کہ میں نے رام رام کہا۔ خدا تعالیٰ کے اقتداری نشانات اس کی ہستی کا ثبوت دے دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے ہم کو خبر دی ہے کہ ایک سخت زلزلہ آنے والا ہے ۔ وہ دن دُنیا کے واسطے ایک غیر معمولی دن ہوگا جس سے لوگ جان لیں گے کہ خدا تعالیٰ موجود ہے۔ لوگ شیطانی خیالات میں ایسے پڑے ہوئے ہیں کہ ایک قدم پیچھے نہیں ہٹانا چاہتے ۔ مگر خدا تعالیٰ جب چاہتا ہے تو وہ ایسی ہیبت ڈال دیتاہے کہ لوگ تمام بدیوں کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ جب تک خدا کسی کو نہ کھینچے وہ کس طرح کھینچا جا سکتا ہے ۔ ہمارا بھروسہ تو صرف خدا تعالیٰ پر ہے وہ قوم جو ہم کو کافر کہتی ہے اس سے ہم اُمید ہی کیا کر سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ہی سچا بادشاہ اور سچا حکمران ہے۔ جب تک کہ آسمان پر کچھ نہیں ہوتا زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا۔ طبیب اپنے بیماروں کے واسطے دُعا کیا کریں:۔ فرمایا:۔ طبیب کے واسطے بھی مناسب ہے