فرمایا کہ :۔ خدا کے معجزات تو ہوتے ہیں مگر ان سے فائدہ صرف مومن ہی اٹھاتے ہیں ۔ بے ایمان لوگ ان سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے اورمحروم ہی رہ جاتے ہیں کیونکہ معجزات میں بھی ایک قسم کا پردہ اور غیب ضرورہوتا ہے ۔ مسیحیت کی ناقص تعلیم کے نتائج مکرمی جناب ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے ذکر کیا کہ بعض انگریز ان پادریوں سے سخت متنفر ہوتے ہیں حتیٰ کہ بعض تو گرجوں کی بجائے اس کے کہ ان میں نماز پڑھیں کسی اورمفید کام پر لگالینا بہتر جانتے ہیں۔ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ :۔ اکثر ایسے کہ وہ تو خدا سے انکار کر بیٹھے ہیں کیونکہ عیسائی ہوکر سب سے پہلی نیکی شراب پینا ہے اورپھر آگے جوں جوں ترقی کریگا اور اپنے کمال کو پہنچے گا کفارہ پر ایمان لاوے گا اور یقین کرے گا کہ شریعت لعنت ہے اورکہ حضرت مسیح ؑ ساری امت کے گناہوں کے بدلے پھانسی پاکر ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو چکا ۔ پھر گناہ کرے گا اور پیٹ بھر کر کرے گا اوراسے کسی کا خوف نہ ہوگا اور خوف ہوت کیسے ؟کیا مسیح انکے لئے پھانسی نہیں دیا گیا ؟غرض یہ تو ان کی عملی حالت ہے پھر دنیا کوخدائی کا جو نمونہ دیا گیا تھا وہ ایسا کمزور اورناتواں نکلا کہ تھپڑ کھائے ۔ پھانسی دیا گیا اور دشمنوں کا کچھ نہ کرسکا ۔ پس انہی باتوں سے وہ خداکے بھی منکر ہوگئے ہیں اور وہ لوگ بیچارے ہیں بھی معذور ۔ کیونکہ یہ سب امور فطرت انسانی کے بالکل خلاف پڑے ہیں ۔ بھلا کفارہ ایسی بیہودہ تعلیم سے بجزناپاک زندگی کے اورایسے کمزور ناتوا ں خداکے ماننے سے بجزذلت وادبار کی مار کی اور حاصل ہی کیا ؟انہوں نے بھی فیصلہ کرلیا کہ ایسے خداسے ہم یونہی اچھے ہیں ۔ یہ ا ن کا قصور نہیں بلکہ تعلیم کا قصور ہے آریوں کو دیکھا جاوے تو انہوں نے ذرہ ذرہ کو خدابنارکھا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے اعمال ہی ان کے سکھ اوردکھ کا باعث ہیں گویا ان کے اعمال ہی ان کا خداہی ۔غور کا مقام ہے کہ ذرات عالم مع اپنے خواص کے خدا کی طرح ازلی ابدی ہیں تو پھر خدا کو ان پر فضیلت کیسی اورحکم کیسا ؟خواہ مخواہ مداخلت بیجا کرکے ا ن کی آزادی میں تصرف کرنے کا حق ہی کیا تھا خداکا ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ وہ زمانہ آگیا ہے کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے کہ وترکنا بعضھم یومئذیموج فی بعض ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعا (الکھف:۱۰۰)موجود ہ آزادی کی وجہ سے انسانی فطرت نے ہر طرح کے رنگ ظاہر کردیئے ہیں اورتفرقہ اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے ۔ گویا ایسا زمانہ ہے کہ ہر شخص کا ایک الگ مذہب ہے ۔ یہی اموردلالت کرتے ہیں کہ اب نفخ صور کا وقت بھی یہی ہے اورفجمعنھم