سے پوشیدہ ہوتا ہے ۔۱؎
۲۴اپریل ۱۹۰۸ء
دعا کے نتیجہ میں امراض سے شفا
فرمایا کہ :۔
بیماریوں میں جہاں قضا مبرم ہوتی ہے وہاں تو کسی کی پیش ہی نہیں جاتی اور جہاں ایسی نہیں وہاں البتہ بہت سی دعائوں اور توجہ سے اللہ تعالیٰ جواب بھی دے دیتا ہے اوربعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مشابہ بمبرم ہوتی ہے اس کے ٹلا دینے پر بھی خداتعالیٰ قادر ہے ۔ یہ حالت ایسی خطرناک ہوتی ہے کہ تحقیقات بھی کام نہیں دیتی اور ڈاکٹر بھی لاعلاج بتادیتے ہیں مگر خداتعالیٰ کے فضل کی یہ علامت ہوتی ہے کہ بہتر سامان پیدا ہوتے جاویں اور حالت دن بدن اچھی ہوتی جاوے ورنہ بصورت دیگر حالت مریض کی دن بدن رذی ہوتی جاتی ہے اورسامان ہی کچھ ایسے پیدا ہونے لگتے ہیں کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی ۔ اکثر ایسے مریض جن کے لئے ڈاکٹر بھی فتویٰ دے چکتے ہیں اورکوئی سامان ظاہری زندگی کے نظر نہیں آتے ۔ ان کے واسطے دعا کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو معجزانہ رنگ میں شفا اورزندگی عطا کرتا ہے گویا کہ مردہ زندہ ہونے والی بات ہوتی ہے ۔
حضرت عیسیٰؑ علیہ السلام کا مردون کو زندہ کرنا
حضرت عیسیٰؑ کے مردوں کو زندہ کرنے کے جو قصے مشہور ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں جھوٹ کی بہت کچھ ملاوٹ کی گئی ہے ورنہ اگر ہزاروں مردے زندہ ہوجاتے تویہودی کیا بالکل ہی اندھے ہوگئے تھے کہ ایسا کھلا کھلا نشان دیکھ کر بھی کہ جس میں غیب بالکل اٹھ گیا اور گویا کہ خدا خود سامنے نظرآگیا ایسی حالت دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے ۔کیا وہ ایسے ہی قسی القلب تھے کہ ایمان لانا تودرکنا بلکہ خود حضرت مسیح ؑ کو جن کے لئے ایسے ایسے معجزات خدانے دکھائے کہ گویا آسمان کے گل پر دے اٹھا دئیے ان کو پکڑ کر سولی دی اور ان کے سرپر کانٹوں کا تاج پہنایا ۔
اصل بات یہی ہے کہ زمانہ دراز گذرا ہے ۔ اصل کتاب موجود نہیں ۔نرے تراجم ہی تراجم رہ گئے ہیں۔ خداجانے کیا کچھ ان لوگوں نے اپنی طرف سے بڑھایا اور کیا کیا نکال دیا۔ اس کا علم خداہی کو ہے ۔
۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰ صفحہ ۱۔۲ مورخہ ۲۶ اپریل ۱۹۰۸ئ