وہ لوگ پانی کی جگہ استعمال کرتے تھے شرک کی طرح ایسی نابود ہوئی کہ پھر نہ عود کر سکی۔
آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ابتداء ہی سے کیسا معصوم رکھا تھا کہ باوجود یکہ آ پ کے تمام رشتہ دار اور اقرباء اور ہم قوم اس خبیث چیز کے استعمال میں مستغرق تھے اور آنحضرت ﷺ ابتدائی چالیس سالہ زندگی انہی لوگوں میں بسر کی مگر کسی کا اثر آپ پر نہ ہوا۔ گویا۔ روز ازل ہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم بنایا تھا اور یہ آپ کی فطرت سلیم کی اور عصمت کی ایک خاص دلیل ہے ۔ ۱؎
۲۲اپریل ۱۹۰۸ئ
احباب جماعت پر نکتہ چینی نامناسب ہے ۔
کسی شخص کا یہ اعترض پیش ہو ا کہ احمدیوں نے کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی بات بات پر آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
فرمایا:۔
ایسے اعتراض باریک در باریک بغض کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ کیا شرک گناہ اور ناپاک زندگی سے توبہ کرنا تبدیلی نہیں ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص بیعت کرکے جاتا ہے اس میں
تبدیلی ضرور ہوتی ہے ۔ شاذو نادر پر اعتراض کرنا ایمانداری نہیں ہے بلکہ قرآن شریف نے تو نکتہ چینی کرنے سے بھی منع فرمایاہے ۔ کذالک کنتم من قبل فمن اللہ علیکم ( النساء :۹۵)
یعنی تم بھی تو ایسے ہی تھے ۔ خدا تعالیٰ نے تم پر احسان کیا۔غور سے دیکھا جاوے تو جوکچھ ترقی اور تبدیلی ہماری جماعت میں پائی جاتی ہے ۔ وہ زمانہ بھر میں اس وقت کسی دوسرے میں نہیں ہے ۔ دیکھو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد دنیا میں کیسا طوفان ارتداد برپا ہوا تھا۔ کہ سواے چند ایک جگہ اکے جماعت بھی نہ ہوتی تھی۔ معترض کوکوئی خاص عناد اور بغض ہے ۔ اور اس نے ظلم کیا ہے اور خواہ مخواہ حملہ کیا ہے ۔ ورنہ ان لوگوں کی تبدیلی تو حیرت میں ڈالتی ہے ۔ معترض غیب دان تو ہے نہیں کہ دوسرے کے دل کے خیالات نیک و بد پر اطلاع پا سکے ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اندر ہی اندر تبدیلی کرتا ہے ۔ اور خدا تعالیٰ سے ایک خاص خلوص اور تعلق محبت رکھتا ہے ۔مگر وہ دوسروں کی نظر
۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر۳۰صفحہ ۱مورخہ ۲۶اپریل ۱۹۰۸ئ