ہوا تھا ۔ اس نے عرض کی کہ حضور میرا ارادہ ہے کہ حضور کے قدموں میں رہوں اور تحصیل علم دینی کروں ۔ فرمایا کہ :۔ اب تمہاری عمر اس قابل نہیں کہ تحصیل علم کی طرف توجہ کرو ۔ تمہاراکام یہ ہے کہ محنت کرواور کمائو اور خداکی راہ میں تقویٰ اختیار کرو۔ تمام علوم صحیحہ کی انتہائی غرض عمل ہوتی ہے ۔ اگر انسان پڑھ کر عمل نہیں کرتا تو وہ سخت گناہ کرتا ہے اور پکڑ بھی سخت ہوگی ۔ مولوی ہو اور پھر گناہ کرے یہ خداتعالیٰ کے غضب اور قہر کی علامت ہے اور جو لوگ دین العجائز رکھتے ہیں اورمعمولی مسلمان ہیں مواخذہ میں بھی ان سے نرمی کی جاوے گی ۔ پس کوشش کرو ۔عملی حالت میں ترقی کرو۔۱؎ ۲۱ اپریل ۱۹۰۸ء ؁ قبل از ظہر ایمان قوی ہوتو نشہ چھوڑ اجاسکتا ہے تمباکو ‘افیون اورشراب وغیرہ کے متعلق ذکر تھا کہ ان کی عادت جن لوگوں کو ہوجاتی ہے پھر ان کا چھوٹنا مشکل ہوجاتا ہے اور بالخصوص شراب تو ایک ایسی چیز ہے کہ چھوڑ دینے کے بعد بھی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کا عام دوری امراض کی طرح بعض اوقات دورہ ہوجاتا ہے اوروہ ایسا خطرناک اورشدید دورہ ہوتا ہے کہ ایک انسان پاگل ہوجاتا ہے اور آخر کارپی ہی لیتا ہے خواہ پھر ہوش سنبھالنے پر توبہ ہی کرلے۔ فرمایا :۔ وہ معاصی کا دورہ ہوتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی بات انہونی نہیں ہے ۔جہاں قوت ایمانی ہووہاں معاصی ٹھہر ہی نہیں سکتے ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی کی طرف دیکھا جاوے کہ انہوں نے حرمت کی آیت نازل ہونے کے بعد کیسی چھوڑی کہ پھر اس توبہ کی حالت میں ہی مرگئے ۔ وہاں تو شراب نے کبھی دورہ نہ کیا اور نہ ہی کسی کو از خود رفتہ کرلیا کہ وہ مجبور ہوجاتا ۔ حکم حرمت کے دن شہر کی گلیوں میں ٹخنوں تک بہہ نکلی ۔مگر یہ سب کچھ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی اور تاثیر کا نتیجہ تھا کہ صحابہ ؓ کے ایمان ایسے قوی ہوگئے تھے کہ شراب بھی جس کا ۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۹ صفحہ ۱ مورخہ اپریل ۱۹۰۸ئ؁