کا سخت درجہ کا حریض اورطامع ہونا اور اپنے فائدے کے لئے ہزاروں جانوں کی ذرہ بھر پرواہ کرنا ‘لوگوں کا سامان خوراک پوشاک بھپارہ میں ضائع کردینا یا نقدی کا ضائع جانا۔ اورپھر جو چیز ایک مصری حاجی دس روپے میں حاصل کرسکتا ہے وہ ہندوستان کو تیس روپے تک بھی بمشکل دینا۔ راستوں میں باوجود یکہ سلطان المعظم نے ہر دومیل پر کنواں تیارکروارکھا ہے عمال اورکارکنوں کا بغیر دوچاآنے لئے کے پانی کا گلاس تک نہ دینا اور پھر راستہ میں باوجود چوکی پہروں کے انتظام کے جو کہ سلطان المعظم کی طرف سے کیا گیا ہے پر لے درجہ کی بدامنی کا ہونا یہانتک کہ انسان اگر راستے سے دوچارگز بھی ادھر ادھر ہو جاوے تو پھر وہ زندہ نہیں بچ سکتا اور پھر ہندیوں سے خصوصاً سخت برتائو ہونا ‘بات بات پرپٹ جانا اور کوئی داد فریا د نہیں ۔ بات بات پر کذاب ‘بطال اورالفاظ حقارت سے مخاطب کیا جانا وغیرہ وغیرہ ایسے سامان ہیں کہ بہت ہی مصیبت کا سامنا نظر آتا ہے۔ یہ سارا ماجرا سنکر حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔ ہم آپ کو ایک نصیحت کرتے ہیں ۔ ایسا ہوکہ ان تمام امور تکالیف سے آ پ کی قوت ایمانی میں کسی قسم کا فرق اورتزلزل نہ آوے ۔ یہ خداتعالیٰ کی طرف سے ابتلاء ہے ۔اس سے پاک عقائد پر اثر نہیں پڑنا چاہئیے ۔ ان باتوں سے اس متبرک مقام کی عظمت دلوں میں کم نہ ہونی چاہئیے کیونکہ اس سے بدتر ایک زمانہ گذرا ہے کہ یہی مقدس مقام نجس مشرکوں کے قبضہ میں تھا اور انہوںنے اسے بت خانہ بنارکھا تھا۔ بلکہ یہ تمام مشکلات اور مصائب خوش آئندہ زمانے اورزندگی کے درجات ہیں ۔ دیکھو آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے بھی زمانہ کی حالت خطر ناک ہوگئی تھی اور کفروشرک اورفساد اور ناپاکی حد سے بڑھ گئے تھے تو اس ظلمت کے بعد بھی ایک نور دنیا میں ظاہر ہوا تھا ۔ اسی طرح اب بھی امید کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ ان مشکلات کے بعد کوئی بہتری کے سامان بھی پیدا کردیگا اور خداتعالیٰ کوئی سامان اصلاح پیداکردیگا بلکہ اسی متبرک اور مقدس مقام پر ایک اوربھی ایسا ہی خطرناک اورنازک وقت گذر چکا تھا جس کی طرف آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی تھی ۔الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل (الفیل :۲) غرض یہ اب تیسرا واقعہ ہے۔ ا س کی طرف بھی اللہ تعالیٰ ضرور توجہ کرے گا اورخداکا توجہ کرنا تو پھر قہری رنگ میں ہی ہوگا۔ دین العجائزوالوں سے مواخذہ میں نرمی ہوگی ایک شخص کابلی سید عبدالمجید خاں نامی چند روز سے قادیان میں آیا