انسان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے ۔خداتعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لئن شکر تم لازید نکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید (ابراھیم :۸)اگر تم شکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اوربھی زیادہ کرتا ہوں اوراگر تم کفر کروتو تم پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے ۔ یعنی انسان پر جب خداتعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہئیے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اورانسانوں کی بہتر ی کا خیال رکھے اوراگر کوئی ایسا نہ کرے اورالٹا ظلم شروع کردے تو پھر خداتعالیٰ اس سے وہ نعمتیں چھین لیتا ہے اورعذاب کرتا ہے ۔ آجکل نواب اور راجہ بالکل بھولے ہیں اور پھر اپنے عیش وآرام میں پڑے ہوئے ہیں ۔ دوسرے لوگوں کو چاہئیے کہ ایسے کامون میں مخلوق کی بھلائی کا خیال رکھیں اور ان باتوں کو بھولیں نہیں جن سے اہل ملک کا فائدہ ہواورایسا نہ ہو کہ بڑا عہدہ پاکر انسان خدا کو بھول جائے اور اس کا دماغ آسمان پرچڑھ جائے بلکہ چاہئیے کہ نرمی اور پیارسے کام کیا جائے اورچاہئیے کہ جو شخص کسی ذمہ داری کے عہد ہ پر مقرر ہوتو وہ لوگوں سے خواہ امیر ہوں یا غریب نرمی اور اخلاق سے پیش آئے کیونکہ اس میں نہ صرف ان لوگوں کی بہتری ہے بلکہ خود اس کی بھی بہتری ہے ۔۱؎ (منقول از تشحیذ الاذہان اپریل ۱۹۰۸ئ؁) ۲۰ اپریل ۱۹۰۸ئ؁ قبل ظہر خانہ کعبہ کی عظمت دلوں میں کم نہیں ہونی چاہیئے شیخ فضل کریم صاحب جنہوں نے اسی سال حج کعبۃ اللہ کا شرف حاصل کیا ہے چند روز سے دارالامان میں تشریف رکھتے ہیں ۔قبل ظہر حضرت اقدس سے ملاقات ہوئی اورانہوں نے اس سال کی ناقابل برداشت تکالیف کا جو حجاج کو برداشت کرنی پڑیں ساراحال بیان کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ انگلش حدود سے نکل کر ٹرکش حدود میں داخل ہوتے ہی ایسی مشکلات کا سامنا ہوا کہ جن کی وجہ سے یقینا کہا جاسکتا ہے کہ یہ مشکلات ایسی ہیں جن سے حج کے بالکل بند ہوجانے کا اندیشہ ہے خصوصاً اہل ہند کے واسطے ۔انہوں نے بیان کیا کہ ٹرکی حدود میں کورنٹائن کی ناقابل برداشت سختیاں وہاں کے ڈاکٹروں اورحاکموں ۱؎ بدر جلد ۷ نمبر ۱۶ صفحہ ۱۴ مورخہ ۲۳ اپریل ۱۹۰۸ئ؁