دُعا کرانے کے واسطے آیا تھا۔ تو تُو میرے واسطے بالکل اجنبی آدمی تھا اور میرے دل میں میرے واسطے کوئی ہمدردی کا ذریعہ نہ تھا۔ اس واسطے تیرے ساتھ ایک تعلق محبت پیدا کرنے کے واسطے میں نے یہ بات سوچی تھی۔
ایسا ہی توریت میں حضرت اسحٰق کا قصہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو کہا کہ جا تو میرے واسطے شکار لے آ اور پکا کر مجھے کھلا تا کہ میں تجھے برکت دوں اور تیرے واسطے دعاکروں۔ اس قسم کے بہت سے قصے اولیاء کے حالات میں درج ہیں اور ان میں حقیقت یہی ہے کہ دعا کرنے والے اور کرانے والے کے درمیان تعلق ہونا چاہئے ۔
انسان پر جس قدر مصائب مالی یا جانی وارد ہوتے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کی نارضامندی کے سبب سے ہوتے ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ اپنی حالت میں تبدیلی کرے اور خدا تعالیٰ کو راضی کرے ۔ تب تمام تکالیف ، درد دور ہو جاتے ہیں۔ دُنیا کی تمام اشیاء اور تمام دل انسانوں کے خدا تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ دیکھو جب تم کسی کے گھر میں جائو اور گھر والا تم پر راضی ہوتو اس کے تمام نوکر تمہاری خاطر کریں گے اور تمہارے ساتھ ادب سے پیش آئیں گے ، لیکن اگر تم آقا کو ناراض کردو تو کوئی نوکر تمہاری پرواہ نہ کریگا بلکہ سب بے عزتی کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے ۔ ۱؎
بلا تاریخ ۲؎
دُعا اور اس کی قبولیت :۔
فرمایا:۔
میرے ساتھ عادت اللہ یہ ہے کہ جب میں کسی امر کے واسطے توجہ کرت اہوں اور دعا کرتا ہوں تو اگر وہ توجہ اپنے کمال کو پہنچ جائے اور دُعا اپنے انتہائی نقطہ کو حاصل کرلے تب ضرور اس کے متعلق کچھ اطلاع دی جاتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جب انسان خدا تعالیٰ سے دُعا کرتا ہے تو اکثر خدا تعالیٰ اپنے بندے کی دُعا قبول کرتاہے لیکن بعض دفعہ خدا تعالیٰ اپنی بات منواتا ہے ۔ دو دوستوں کی آپس میں دوستی کے قائم رہنے کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ کبھی اس نے اُس کی بات مان لی اور کبھی اُس نے اس کی بات مان لی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمیشہ ایک ہی دوسرے کی بات مانتا رہے اور وہ اپنی بات کبھی نہ منوائے ۔ جو شخص یہ خیال کرتاہے کہ ہمیشہ اس کی دُعا قبول ہوتی رہے اور اسی کی خواہش پوری ہوتی رہے وہ بڑی غلطی کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے قرآن شریف میں دو آیتیں نازل فرمائی ہیں۔ ایک میں فرمایا ہے اُدْعُوْنِیٓ