اور پھر یہی نہیں بلکہ ہزار ہا قسم کے زمینی آسمانی نشانوں سے ہمارے صدق دعویٰ کی تائید کی اور سارے معاملے ہمارے ساتھ صادقوں والے کئے ۔ ایک بھی ایسی بات نہ کی جو کاذبوں والی ہو۔ پھر بایں خدا جانے ان کی عقلوں پر کسی جہالت کے پردے پڑ گئے ۔ اور یہ کیون نہیں سمجھتے ۔ ۱؎ ۱۲ اپریل ۱۹۰۸ ئ؁ فرمایا یہ زندگی کچھ شئے نہیں ذوالقرنین فرمایا:۔ وہ ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے اور سکندررومی اور شخص ہے ۔ بعض لوگ ہر دو کو ایک سمجھتے ہیں ۔ دو صدیوں سے حصہ لینے والا ہے ۔ ۲؎ بلاتا ریخ سفوف بھلاوہ کے خواص سفوف بھلاوہ کا ذکر تھا۔ فرمایا :۔ باہ کے مایوسوں کے واسطے مفید ہے فرمایا :۔ یہ امر گناہ میں داخل ہے کہ انسان لوگوں کے ہنسی ٹھٹھے سے ڈرکر حق گوئی سے رہ جاوے ۔ سلطان روم کا ذکر خیر سلطان روم کا ذکر تھا ۔فرمایا :۔ اس کئے گذرے زمانے میں بھی اسلامی بادشاہوں نے خداتعالیٰ کی یاد ۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۷ صفحہ ۱تا ۳ مورخہ ۱۴ اپریل ۱۹۰۸ئ؁ ۲؎ بدر جلد ۸ نمبر ۷۔۸۔۹صفحہ مورخہ ۲۴‘۳۱دسمبر ۱۹۰۸ئ؁