فرمایاکہ :۔
بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بغیر اس کے کہ بجلی اپنا اثر کرے موت کا باعث ہو جایا کرتی ہے ۔ چنانچہ ایک دفعہ ہم نے دیکھا کہ ایک موقعہ پر کچھ گدھے بجلی کے صدمے سے ہی مرگئے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم سیالکوٹ میں ایک مکان پر تھے اور پندرہ باسولہ آدمی اور بھی ہمارے ساتھ تھے ۔ دفعتاً بجلی اس مکان کے دروازے پر پڑی اور دروازے کی شاخ کو دوٹکڑے کر دیا اور مکان دھواں دھار ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا بڑی کثرت سے گندھک جلائی گئی ہے ۔ پھر چند منٹ کے بعد ہی ایک دوسرے محلے میں ایک مندر تھا اور اس کے پیچ در پیچ راستے تھے۔
چنانچہ اس موقعہ پر آپ نے کھڑے ہو کر اپنے دست مبارک کی لکڑی سے زمین پر ذیل کی صورت کا ایک نقشہ کھینچا ۔
اور فرمایا:۔
اس قسم کے پیچ در پیچ راستوں سے ہو کر وہ بجلی اندر مندر میں گئی اور وہاں ایک سادھو بیٹھا تھا اس پر جا کر گر ی چنانچہ وہ سادھو ایک چوکی کی طرح ہو گیا ہوا تھا ۔
صداقت کی ایک دلیل
فرمایاکہ:۔
ہمارا معاملہ تو غور کرنے والوں کے واسطے بالکل صاف اور کھلا ہے ۔ عقلمند انسان کے واسطے تو اگر اور کوئی بھی معجزہ نہ ہو ( حالانکہ یہاں تو ہزاروں زمینی آسمانی نشانات اور تائیدات موجود ہیں) تو بھی اتنی مدت دراز تک ہمارے باوجود کا ( ایسے زبر دست دعاوی اور ایسے خطر ناک حالات کے باوجود ) ابقا ء ہی کافی ہے ۔ غور کا مقام ہے کہ ابھی تیرھویں صدی میں سے کچھ سال باقی تھے جب سے ہمارا دعویٰ ہے اور اب چودھویں صدی کے بھی چھبیس برس گذر چکے ہیں ۔ اندرونی بیرونی دشمنوں کی مخالفتیں اور جوشیلی تدابیر کے ساتھ ساتھ خود ہمارے اپنے وجود کی بعض خطرناک بیماریوں کے ہوتے ہوئے پھر بھی خدا نے ہمیں معجزانہ زندگی عطا کی ہے پھر خود ہی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے واسطے تو ایک آدھ گھڑی کا افتراء بھی خطرناک اور رگ جان کے کٹ جانے کا باعث تھا مگر ہمیں خدانے باوجود یکہ ہم ان کے زعم میں مفتری ہیں برابر تیس برس تک مہلت دی
۱؎ پنجابی میں جلی ہوئی لکڑی کو کہتے ہیں ۔ (مرتب)