دیکھو فرعون بظاہر کیسا سخت کافر انسان تھامگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ ؑ کو یہی ہدایت ہوئی کہ قولا لہ قولاً لینا ( طہ : ۴۵) رسول اکرم ﷺ کے واسطے بھی قرآن شریف میں اسی قسم کا حکم ہے ۔۔ وان جنحو اللسلم فاجنح لھا( الانفال : ۶۲) مومنوں اور مسلمانوں کے واسطے نرمی اور شفقت کا حکم ہے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی ایسی حالت بیان کی گئی جہاں فرمایا ہے کہ محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحما ء بینھم ( الفتح:۳۰) چنانچہ ایک دوسرے مقام پر آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے ۔ کہ یا یھا النبی جاھد الکفار و المنافقین واغلظ علیھم (التوبۃ :۷۳) غرض ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے بھی حفظ مراتب کا لحاظ رکھا ہے ۔ مومنین اور ایمانداروں کے واسطے کیسی نرمی کا حکم ہے اور کفار میں سے بعض میں مادہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ ان کو سختی کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح سے بعض بیماریوں یا زخموں میں ایک حکیم حاذق کو چیراپھاڑی اور عمل جراحی سے کام لینا پڑتا ہے ۔ حضرت ابن عربی لکھتے ہیں کہ فرعون کے لئے کیون اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو نرمی کا سلوک کرنے کی ہدایت کی ۔ اس میں بھید یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آخر اسے ایمان نصیب ہو جاوے گا ۔ چنانچہ امنت ُ کا لفظ اسی کے منہ سے نکلا۔ بلکہ وہ تو یہانتک لکھتے ہیں کہ قرآن شریف سے اس کی نجات بھی ثابت ہے۔قرآن شریف میں یہ نہیں لکھا کہ فرعون جہنم میں داخل ہوگا۔ صرف یہی لکھا ہے کہ یقدم قوم یوم القیامۃ فاوردھم النار ( ھود :۹۹) آسمانی بجلی فرمایا:۔ خدا تعالیٰ کی ہیبت ناک اور غضب کی تجلیات کا سب سے اکمل اور اتم مظہر صاعقہ ہے اس میں دونو باتیں سمندر میں میٹھے اور کڑوے پانی کی طرح خدا تعالیٰ کے غضب اور مراحم کی پہلو بہ پہلو چلی جارہی ہیں ۔ ایک طرف صاعقہ خدا تعالیٰ کے غضب کا مظہر ہے تو دوسری طرف روشنی اور بارش خدا تعالیٰ کے رحم کے مظہر بھی موجود ہے ۔ فرمایا:۔ ایک الہام بھی ہے کہ انی انا الصاعقۃ ۱؎بدر سے :۔ ’’خدا تعالیٰ کی دو صفتیں ہیں ۔ جلال اور جمال ۔ دونوں ساتھ ساتھ کام کر رہی ہیں ۔‘‘ بدر جلد ۷ نمبر ۱۶ صفحہ ۴