(المومن :۲۹) میں داخل ہیں اوربعض مخفی معقول وجوہات کے باعث وہ اپنے ایمان کا اظہار بھی نہیںکرسکتے اوروہ ایسے نہیں ہیں کہ لآالی ھولآ ولآ الی ھولآء (النسآء :۱۴۴) بلکہ انہوں نے تمہارے پاس اپنے ایمان اورصدق خلوص کا اظہار کردیا تووہ لوگ معذور ہیں اوربعض وہ لوگ جو اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مکفرین میں داخل نہیں ہیں ان کو چاہئیے کہ وہ اس قسم کاایک اشتہار دے دیں کہ وہ ہمارے مکفرین میں سے نہیں ہیں اورجولوگ ہم کو کافر وغیرہ ناموں سے یاد کرتے ہیں ان سے اپنے آپ کو یوں الگ کردیں بلکہ یہ بھی لکھ دیں کہ جو لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں وہ آنحضرتﷺ کی حدیث کے مطابق ایک مسلمان کو کافر کہنے کی وجہ سے خود کافر ہیں۔لیکن چپکے چپکے کبھی ہم میں آئے توہمارے بن بیٹھے اوران میں گئے توان کے ہوگئے ۔یہ ایمانداروں کی روش نہیں ہے ۔ہم کوئی غیب کا علم تو رکھتے نہیں کہ کسی کے دل کی حالت سے ہمیں آگاہی ہوجاوے ۔پس یہ ایک راہ ہے کہ جس سے یہ لوگ اگر ان کے دلوں میں کوئی نفاق کا مرض نہیں ہے توہمارے مکفرین میں سے الگ ہوکر الگ ایک جماعت بن سکتے ہیں اوراگر فی قلوبھم مرض فزادھم اللہ مرضا(البقرۃ :۱۱)والا معاملہ ہے اوران کے دلوں میں واقعی نفاق کی آگ ہے تواس طرح سے ان کی بیماری اوربھی زیادہ ہوجاوے گی اورظاہر ہوجاوے گی۔ اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حب دنیا کا غلبہ بھی سلب ایمان کا باعث ہوجایا کرتا ہے لہٰذا دنیوی امور میں بہت انہماک اوردنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین ایمان اورآخرت کی پرواہی نہ رہے ۔یہ بھی خطرناک زہریلا مرض ہے۔یہ تووہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جائو ‘درختوں کے تنوں سے لگ جائو اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔پس اگر بحالت مجبوری کوئی احمدی اکیلا ہی ہوتو اسے تنہا ہی نماز گذارلینی چاہئیے اورکوشش اوردعاکرنی چاہئے کہ خدااسے جماعت بنادے ۔ بعض دفعہ سختی کرنا ضروری ہوتا ہے اصل میں مومن کو بھی تبلیغ دین میں حفظ مراتب کا خیال رکھنا چاہئے ۔جہاں نرمی کا موقعہ ہو وہاں سختی اوردرشتی نہ کرے اورجہاں بجز سختی کرنے کے کام ہوتا نظر نہ آوے وہاں نرمی کرنا بھی گناہ ہے ۔۱؎ گرحفظ مراتب نہ کنی زندیقی ۱؎ بدر سے :۔ ’’ہر معترض سے جو باوجود سمجھانے کے پھر بھی اعتراض کرتا چلا جائے نرمی کا برتائو ٹھیک نہیں ۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱۶صفحہ ۴)