ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اورپھر گویا اس امر کا ازسر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح واستحکام ہوتا ہے ۔
آنحضرت ﷺ نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقررنہ کیا اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپ کو خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرمادے گا کیونکہ یہ خداکا ہی کام ہے اور خداکے انتخاب میں نقص نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب سے اول حق انہی کے دل میں ڈالا ۔
حضرت مولانا المکرم سید محمد احسن صاحب نے عرض کیا کہ حضور کے الہام میں بھی تویہی مضمون ہے الحمد للہ الذی جعلک المسیح ابن مریم اورآیت استخلاف میں بھی اللہ تعالیٰ نے اسناد لیستخلفن اورلیمکنن کی اپنی طرف ہی فرمائی ہے نہ کہ رسول کی طرف ۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
ایک الہام میں اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام بھی شیخ رکھا ہے ۔انت الشیخ المسیح الذی لایضاع وقتہ اورایک اورالہام میں یوں آیا ہے کہ کمثلک در لایضاع ۔ان الہامات سے ہماری کامیابی کا بین ثبوت ملتا ہے ۔
مومن خود جماعت ہے
حضرت مولنٰا سید محمد احسن صاحب نے ایک اورخط کے متعلق عرض کیا ۔حضرت اقدس نے فرمایاکہ :۔
ہمارے پاس توجب کوئی اس قسم کا خط آتا ہے کہ میں اکیلاہوں توہمیں اس کے ایمان ہی کا خطرہ ہوجاتا ہے ۔مومن خود جماعت ہے۔مومن اکیلا بھی کبھی نہیں رہتا ۔جس کا خداتعالیٰ پر ایمان کامل ہوتا ہے خداتعالیٰ اسے اکیلا نہیں رہنے دیتا ۔
غیر احمدی کولڑکی دینے میں گناہ ہے
فرمایا کہ :۔
غیر احمدیوں کی لڑکی لے لینے میں حرج نہیںہے کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے بھی تونکاح جائز ہے بلکہ اس میںتو فائدہ ہے کہ ایک اورانسان ہدایت پاتا ہے ۔اپنی لڑکی کسی غیر احمد ی کو نہ دینی چاہیئے ۔اگر ملے تو بیشک لو۔ لینے میں حرج نہیں اوردینے میں گناہ ہے۔
حب دنیا کا غلبہ ب ایمان کا باعث بنتا ہے
فرمایا :۔
بعض لوگ جو یکتم ایمانہ