اس کو دریا بہتا ہوا نظر نہیں آتا اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ خس وخاشاک کی طرف جھک جاتا ہے اورمرتد ہوجاتا ہے ۔ اگر ہم منہاج نبوت سے باہر کوئی امر پیش کرتے ہوں اور کوئی نئی بات اپنی طرف سے پیش کرتے تواعتراض کا موقعہ بھی تھا۔قرآن شریف میں آیا ہے کہ لوکنانسمع اونعقل ماکنافیٓ اصحاب السعیر (الملک :۱۱) پس جس شخص نے نہ کبھی صحبت میں رہ کر ہماری باتوں کو سنا ہواور نہ خود منہاج نبوت کے ثبوت پر پرکھنے کی عقل ہووہ کیسے ہدایت پاسکتا ہے ۔دیکھو موجودہ زمانے میں خدانے اتنی کثرت سے زبردست نشانات کا ذخیرہ جمع کردیا ہے اورایسے ایسے اسبا ب مہیا کردیئے ہیں کہ اگر ایک لاکھ نبی بھی ان نشانات سے اپنی نبوت کا ثبوت کرناچاہے توکرسکے کیونکہ اس وقت نہ تو ایسی ضرورتیں تھیں اورن ہی ایسے ذرائع واسباب مہیا تھے۔دیکھو اگر انبیاء کی بعثت کے ساتھ ہی بڑے بڑے زبردست نشانات اورکھلے کھلے معجزات دکھادئیے جایا کریں توپھر ایمان ایمان ہی نہیں رہ سکتا بلکہ وہ تو عرفان ہوجاتا ہے ۔ اورپھر اس میں انسان کو ثواب اورمدارج کے حصول کی کوئی وجہ ہی نہیںرہتی ۔اگر ابتداء ہی میں کھلی کھلی کا میابیاں اورفتوحات ہوجائیں توسب سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہونے والے بدمعاش اورفاسق فاجر لوگ ہی ہوتے اورصادق اورکاذب ‘مخلص اورمنافق میں تمیز کی کوئی راہ باقی رہ نہ جاتی اورنعوذ باللہ اس طرح سے توامان اٹھ جاتی ۔دیکھو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت ﷺ کو فراست صحیحہ اورنورایمان سے پہچان لیا تھا کہ انہو نے کوئی معجزہ مانگا تھا ؟ ہر گز نہیں بلکہ صرف آنحضرت ﷺ کی زندگی کے ابتدائی واقعات ہی سے آپ کے صدق دعویٰ کو بڑی قوت اوراستقلال سے قبول کرلیا۔ نبی کے بعد خلیفہ بنانا خداتعالیٰ کا کام ہے صوفیاء نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی شیخ یارسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے ۔جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تودنیا پر ایک زلزلہ آجاتا ہے اوروہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خداتعالیٰ کسی خلیفہ کے ۱؎ بدر سے ـ:۔ ’’پس انجام اچھا معلوم نہیں ہوتا ۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱۶صفحہ ۴مورخہ ۲۳اپریل ۱۹۰۸ئ؁ ) ۲؎ بدر سے :۔ ’’اگر تمام نشانات یکساں روشن اوبین اورحسب خواہش ہوتے تو ابوجہل بھی ایمان ہی لے آتا مگر وہ خبیث النفس تھا ۔خدانے نہ چاہا کہ ایسی پاک جماعت میں شامل ہو۔‘‘ (حوالہ مذکور )