آنحضرت ﷺ کا اس امر کا اظہار فرمانا کہ ابوجہل مسلمان ہوجاوے گا ۔ماسویٰ ان کے حضرت عیسیٰؑ کے بارہ حواریوں کے بارہ تختوں کا معاملہ ۔حضرت یونس ؑ نبی کی قوم کا معاملہ ۔ حضرت موسیٰؑ کی زندگی میں بھی ایسا معاملہ موجود ہے ۔۲؎ توپھر ہم حیران ہیں کہ ایسا معترض مسلمان کہلاکرکس کس بات کا انکار کرے گا۔یہ تو ایک بیہودہ بات ہے کہ جس بات کی سمجھ نہ آئی اس کا انکار کردیا۔ دیکھو ہماری اس پیشگوئی کی ایک ٹانگ تواسی وقت پیشگوئی کے عین مطابق ٹوٹ گئی ۔ جس کی وجہ سے ان لوگوں پر خوف طاری ہوااورانہوںنے صدقہ اور خیرات سے اوراورطرح سے عجزو انکسار‘ گریہ وبکا سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے بھی مطابق اپنی سنت کے ان سے سلوک کیا۔دیکھو حضرت یونس نبی کا قوم سے جو عذاب کا وعدہ ہوا تھا اس میں کوئی بھی شرط موجود نہ تھی اورصاف اورصریح الفاظ تھے کہ چالیس دن کے بعد تم پر عذاب نازل ہوجاوے گا۔پس جب ایک غر مشروط اورقطعی پیشگوئی کا توبہ اوراضطراب اورگریہ وبکاسے ٹل جانا سنت اللہ کے مطابق ہے توپھر مشروط پیشگوئی پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے جس میں صاف یہ الفاظ موجودہیں توبی توبی فان البلآ ء علی عقبک ۔۳؎ حضرت شاہ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی کتاب فتوح الغیب میں لکھتے ہیںکہ قد یوعد ولا یونی کہ بعض وعدے خداتعالیٰ کے ایسے بھی ہوتے ہیں جو پورے نہیں کئے جاتے۔خود قرآن شریف میں متشابہات کا ذکر ہے۔مومن اورکافر میں ایسے متشابہات سے تمیز ہوجاتی ہے اورچھپے ہوئے مرتد اور منافق لوگوں کے الگ کرنے کا یہ ایک آلہ ہوتے ہیں۔ خداتعالیٰ اگر متشابہات نہ رکھتا تودنیا دنیا ہی نہ رہتی ۔منافق کا قاعدہ ہے کہ ۱؎ بدر سے :۔ ’’ابوجہل کی نسبت دیکھا گیا کہ بہشتی انگور کا خوشہ اس کو ملا ہے مگر وہ مسلمان نہ ہوا۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱۶صفحہ ۲۳اپریل ۱۹۰۸ئ؁) ۲؎ بدرسے :۔ ’’حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیاکہ اس ارض کے تم مالک ہوگے اور اس میں کئی برس گذر گئے ۔‘‘ (بدر حوالہ مذکور) ۳؎ بدر سے :۔ ’’جس سے صاف ظاہر ہے کہ توبہ سے یہ سب باتیں ٹل جاویں گی اوراحمدبیگ کی موت سے جو خوف ان پر چھا گیا اس نے پیشگوئی کے حصہ کو ٹال دیا ۔اصل بات یہ ہے۔ خداہزارہا نشان دکھاکر بعض نشان ایسی حالت میں بھی رکھ لیتا ہے ہے جو منافقین وغیرہ کے امتیاز کا موجب ہوں۔‘‘ (بدرحوالہ مذکور)