۱۱اپریل ۱۹۰۸ئ؁ بوقت سیر مرزااحمد بیگ کے بارہ میں پیشگوئی پر اعتراض کا جوا ب کسی معترض کا ایک خط حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب کی خدمت میں آیا تھا جس میں اس نے مرزا احمد بیگ والی پیشگوئی پر اعتراض کیا تھا ۔حضرت مولوی صاحب موصوف نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں بوقت سیر اس کا تذکرہ کیا۔ حضرت اقدس ؑ نے فرمایاکہ :۔ ایسے آدمی سے پہلے یہ دریافت کرنا چاہیئے کہ آیا تم کلمہ گوبھی ہویا کہ نہیں ؟اورآنحضرت ﷺ اوراور انبیاء سابقین پر بھی ایمان رکھتے ہویاکہ نہیں؟تعجب آتا ہے ایسے لوگو ں کی حالت اورعقل پر کہ ہزارہاقسم کے نشانات دیکھتے ہیں ان کی توکچھ پروانہیں کرتے اور نہ ان سے کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر جب ایک ایسے امر کو جو متشابہات مین سے ہوتا ہے بوجہ اپنی کم فہمی اورکم عقلی کے اس کی حقیقت کو نہ سمجھنے کے باعث اعتراض کرنے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ ان سے اگر یہ سوال کیا جاوے کہ اورجو ہزارہا بین نشان موجود ہیں ۔ان سے تم نے کیا فائدہ اٹھایا ہے تویقیناان سے کوئی جواب بن نہیں آتا ۔حالانکہ وہ امر جس کو وہ اپنی کم علمی کی وجہ سے نشانہ اعتراض بناتے ہیں ۔عین سنت اللہ کے موافق ایک امر ہوتا ہے اورکوئی بھی نبی نہیں گذرا جواس سنت سے باہر رہا ہو۔پس اس سنت سے انکار کرنے والے کا ایمان کیسے خطرے میں ہے وہ صرف ہماری پیشگوئی پر ہی اعتراض نہیں کرتا بلکہ آنحضرت ﷺ کی بھی تکذیب کرتا ہے اوراس طرح سے تودوسرے تمام انبیاء کی بھی تکذیب لازم آتی ہے ۔ دیکھو آنحضرت ﷺ کا صلح حدیبیہ کا معاملہ جس میں بعض بڑے بڑے اکابر صحابہ ؓ کو بھی ٹھوکر لگ گئی تھی مگر پھر خدانے ان کی دستگیری فرما کر ان کو بچالیا حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس میں شریک تھے ۔پھر ۱؎ بدر سے ۔فرمایا :۔ ’’یہ شخص ہمیں چھپا ہوانیم مرتد معلوم ہوتاہے ۔ہزارہا روشن نشانات دیکھنے کے بعد بھی ابھی اسے تاریکی ہی نظر آتی ہے یہ اس کی آنکھوں کا قصور ہے ۔اگر وہ اس قسم کے شبہات کرنے لگا تو قریب ہے کہ آنحضرت ﷺ پر بھی اس کا ایمان نہ رہے ۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱۶صفحہ ۴مورخہ ۲۳اپریل ۱۹۰۸ئ؁)