کیا فائدہ ؟کیاان کی تعلیم کا اثر اسی زمانہ تک محدود تھایا اب بھی ہے ؟اوراگر ہے توکہاں اورکس ملک میں ؟ افسوس آتا ہے اگر عیسیٰ اب آجاویں تووہ تو اس قوم کی پہچان بھی نہ سکیں ۔ہم ان سے محبت رکھتے ہیں اور آپ محبت نہیں رکھتے ہوں گے کیونکہ آپ کو ان کی خبر نہیں۔ ہم نے تو ان کو بارہا دیکھا ہے ۔بلکہ ہم تو جانتے ہیں کہ اب بھی خود آپ لوگوں کے گھر میں ہی تفرقہ ہے ‘اختلاف ہے۔بعض ایسے فرقے عیسائیوں میں اب بھی موجود ہیں جو حضرت عیسیٰ کو خدانہیں مانتے بلکہ صر ایک برگزیدہ نبی مانتے ہیں ۔اورقرآن شریف سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے تو جب گھر میں ہی اختلاف ہے توکیوں وہ راہ ترک نہیں کی جاتی جوکہ بالاتفاق خطرناک ثابت ہوچکی ہے ۔باقی رہا یہ کہ اب دنیا میں کیا ہوگا سواس کے متعلق ہم صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ دنیا اپنی اس موجودہ حالت پر نہیں رہے گی بلکہ اس میں ایک عظیم الشان تغیر اورانقلاب واقع ہوگا۔ سوا ل:۔ مسیح کو آپ نے کس طور سے دیکھا ہے ۔ آیا جسمانی رنگ میں دیکھاہے ؟ جواب :۔ فرمایاکہ :۔ ہاں جسمانی رنگ میں اورعین حالت بیداری میں دیکھا ہے ۔ سوال :۔ ہم نے بھی مسیح کو دیکھا ہے اوردیکھتے ہیں مگر وہ روحانی رنگ میں ہے ۔کیا آپ نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طر ح ہم دیکھتے ہیں ۔ جواب :۔ نہیںہم نے ان کو جسمانی رنگ میں دیکھا ہے اوربیداری میں دیکھا ہے ۔ اس تقریر کے بعد حضرت اقدس نے فرمایاکہ :۔ ان کے واسطے چائے تیار ہے لہٰذا ان کو چائے پلائی جاوے اوراس طرح سے جلسہ برخواست ہوا۔ انگریزوں نے حضرت اقدس کا بہت بہت شکریہ اداکیا اور کچھ کھانا اورچائے پینے کے بعد مدرسہ کو دیکھتے ہوئے جہاں ایک طالب علم ہائی کلاس محمد منظور علی شاکر نے سورہ مریم کی چند ابتدائی آیا ت نہایت خوش الحانی سے پڑھ کر سنائیں کیونکہ اس وقت ان کی قرآن شریف کی گھنٹی تھی ۔قرآن شریف سنکر وہ خوش ہوئے اور پھر بٹالہ کو چلے گئے ۔ کھانا کھانے کے میز پر بیٹھے ہوئے انہوں نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے ایک سوال کیا کہ مرزاصاحب کی وفات کے بعد کیا ہوگا ؟جسکا جواب مفتی صاحب موصوف نے یوں دیا کہ آپ کی وفات کے بعد وہ ہوگا جو خداکو منظور ہوگا اور جوہمیشہ انبیاء کی موت کے بعد ہواکرتا ہے ۔ الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۶صفحہ ۱تا۴ مورخہ ۱۰اپریل ۱۹۰۸ئ؁