ہیں ۔حضرت عیسیٰ کی شان کی بے ادبی کی جاتی ہے کیونکہ ان کو خواہ نخواہ خدابنایا جاتا ہے ۔کیا یہ کافی نہ تھا کہ ان کو خداکے ایک برگزیدہ بندے مان کر ان کی پیروی کی جاتی اوران کے نقش قدم پر ان کا نمونہ اور رنگ اختیار کیا جاتا ہے ۔
انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ خدابن جاوے تو پھر اسے ایسے نمونے کیوں دیئے جاتے ہیں؟جب کسی کو کوئی نمونہ دیا جاتا ہے تواس سے نمونہ دینے والے کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ اس نمونہ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کی جاوے اورپھر وہ اس شخص کی طاقت میں بھی ہوتا ہے کہ اس نمونے کے مطابق ترقی کرسکے خداجو فطرت انسانی کا خالق ہے اوراسے انسانی قویٰ کے متعلق پوراعلم ہے اورکہ اس نے انسانی قویٰ میں یہ مادہ ہی نہیں رکھا کہ خدابھی بن سکے تو پھر کیوں اس نے ایسی صریح غلطی کھائی کہ جس کام کے کرنے کی طاقت ہی انسان کو نہیں دی اس کام کے کرنے کے واسطے اسے مجبور کیا جاتا ۔کیا یہ ظلم صریح نہ ہوگا؟ رسالت اورنبوت کے درجہ تک توانسان ترقی کرسکتا ہے کیونکہ وہ انسانی طاقت میں ہے پس اگر حضرت عیسیٰؑ خدا تھے تو ان کا آنا ہی لاحاصل ٹھہرتا ہے اور اگر ان کو نبی اوررسول مانا جاوے توبے شک مفید ثابت ہوتا ہے ۔
پھر اس میں خداتعالیٰ کی بھی ہتک اوربے ادبی لازم آتی ہے ۔گویا خدانے بخل کیا کہ اپنی تجلیات کا مظہر صرف ایک ہی شخص کو ٹھہرایا اوراپنے فیوض کو صرف حضرت عیسیٰ تک ہی محدود کردیا ۔غورتوکرو اگر کسی بادشاہ کی رعایا صرف ایک فردواحد ہی ہوتو کیا اس میں اس بادشاہ کی تعریف ہے یا ہتک ؟اگر یہ کہا جاوے کہ بادشاہ کا فیض اورانعام صرف ایک خاص نفس واحد تک ہی محدود ہے توپھر اس میں اس بادشاہ کی کیا بڑائی ہوگی ؟پس جب خداکے کروڑوں بندے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود تھے تو کیا وجہ کہ خداتعالیٰ نے اپنے فیوض کو صرف بنی اسرائیل ہی تک محدود رکھا۔دیکھو بند پانی بھی آخر کا رگندہ ہوجاتا ہے اورکیچڑ کی صحبت سے اس میں ایک قسم کا تعفن پیدا ہوجاتا ہے توپھر خداکے اوپر ایسا بہتان باندھنا کہ اس کے فیوض اوربرکات صرف ایک خاص قوم تک ہی محدود اوربند ہیں خداکی شان کی ہتک اوربے ادبی ہے ۔
حضرت عیسیٰ کے خدابنانے میں فائدہ کیا ؟اوران کی شان میں ترقی کیا؟بلکہ الٹی اس میں تو ان کی ہتک اورکسر شان ہے ۔مردی اس میں ہے کہ جو کام وہ کرتے تھے وہ کام کئے جاویں اوران کی تعلیم پر عمل درآمد کرکے اچھا نمونہ دکھانے کے ذریعہ دکھایا جاوے کہ وہ خود اعلیٰ قسم کے انسان تھے اوران کے انفاس میں تزکیہ کا اثر اورتعلیم میں اعلیٰ درجہ تک ترقی کرنے کی طاقت موجود تھی ۔زبانی تعریف کرنے میں غلو کرنے سے