جواب :۔فرمایا :۔ اوردلیل قبولیت دعاہے ۔ اس موقعہ پر حضرت حکیم الامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرزند صاحبزادہ عبدالحی بھی حضرت اقدس کے قریب ہی موجود تھا ۔حضرت حکیم الامت نے اسے آگے کردیا اور حضرت نے اسے بازوسے پکڑ کر ان لوگو ں کے روبر وکرکے یوں فرمایا کہ :۔ ایک شخص نے جو کہ مولوی صاحب کا دشمن تھا اس نے آ پ کے متعلق یہ کہا تھا کہ آپ ابترہیں اوراشتہار بھی شائع کردیا تھا ۔اس پر ہم نے دعاکی وہ جناب الہٰی میں قبول کی گئی اورہمیں بتایاگیا کہ لڑکا پیدا ہوگا اور اس کا یہ نشان ہوگا کہ اس کے بدن پر پھنسیاں ہونگی اور یہ اس کی پیدائش کے چھ برس پہلے کا واقعہ ہے ۔چنانچہ خداتعالیٰ کے فضل سے لڑکا پیدا ہوااور اس کے بد ن پر پھنسیاں نکلیں جن کے داغ ابتک موجو د ہیں۔علاوہ ازیں اورایسے ہزاروں نمونے قبولیت دعاکے موجود ہیں۔ سوال :۔آپ کے آنے کامقصد کیا ہے اوراب آئندہ کیا ہوگا ؟ جواب :۔ فرمایاکہ :۔ ہمارے آنے کا یہ مقصد ہے کہ عیسائیون ‘ہندوئوں اورمسلمانوں میں جو غلطیاں (خواہ وہ عملی ہوں یا اعتقادی )پیدا ہوگئی ہیں ان کی اصلاح کی جاوے ۔بھلا آپ ہی بتائیں کہ آیا عیسائیت یورپ میں اپنی اصلیت پر ہے ؟ یا عیسائیوں نے توریت یا انجیل کی تعلیم کے کسی نقطہ پر بھی عمل کیا ہے ؟تمام یورپ کی عملی حالت کیا کہہ رہی ہے ؟آیا ان لوگو ں کے دلوں میں خداتعالیٰ پر بھی ایمان ہے ؟ اورکیا ان کو خداکا خوف بھی ہے؟ (ان باتوں کے جوا ب میں انگریز نے صاف اقرار کیا کہ واقعی نہ توتوریت پر عمل ہے اورنہ ہی یورپ کی عملی حالت درست ہے ) فرمایا کہ :۔ ہمیں خدانے بتایا ہے کہ حضرت مسیح خداکے ایک برگزیدہ بندے اورنبی تھے۔ یہ نہیں کہ وہی ایک ہی ایسا نمونہ تھے اورپھر خداتعالیٰ نے اپنا فیضان کسی پر نازل نہیں کیا اور ہمیشہ کے واسطے ایسی برکات کا دروازہ بند کردیا ہوبلکہ وہ خداجس کی شان بلند ہے اوروہ تمام ملکوں کا ایک اکیلا خداہے ۔اس نے اپنے فیضان بھی تمام ملکوں پر کئے ہیں۔ دیکھو توریت چھوڑ دی گئی ۔اس کی تعلیمات کی کچھ پروانہیں کی جاتی ۔اس میں ہزارون غلطیاں لگائی گئی