دُعا کے واسطے ضروری ہے اور اس قسم کے حضور اور توجہ کا پیدا کرنا دراصل اختیاری امر نہیں ہے۔ دُعا میں کوشش ہر دو طرف سے ہونی ضروری ہے ۔ دُعا کرنے والا خدا تعالیٰ کے حضور میں توجہ کرنے میں کوشش کرے اور دُعا کرانے والا اس کو توجہ دلانے میں مشغول رہے۔ بار بار یاد دلائے خاص تعلق پیدا کرے۔ صبر اور استقامت کے ساتھ اپنا حال زار پیش کرتا رہے۔ تو خواہ مخواہ کسی نہ کسی وقت اس کے لئے درد پیدا ہو جائے گا۔ دُعا بڑی شئے ہے جبکہ انسان ہر طرف سے مایوس ہو جائے تو آخری حیلہ دُعا ہے جس سے تمام مشکلات حل ہو جاتے ہیں۔ مگر ایسی توجہ کی دُعا ضرور ایک وقت چاہتی ہے اور یہ بات انسان کے اختیار میں نہیں کہ کسی کے واسطے دل میں درد پیدا کرلے۔
ایک صوفی کا ذکر ہے کہ وہ راستہ میں جاتاتھا کہ ایک لڑکا اس کے سامنے گر پڑا۔ اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ صوفی کے دل میں درد پیدا ہوا۔ اور اسی جگہ خدا تعالیٰ کے آگے دُعا کی اور عرض کی کہ اے خدا تو اس لڑکے کی ٹانگ کو درست کردے ورنہ تو نے اس قصاب کے دل میں درد کیوں پید اکیا۔
میرا مذہب یہ ہے کہ کیسی ہی مشکلات مالی یا جانی انسان پر پڑیں۔ ان سب کا آخری علاج دُعا ہے خدا تعالیٰ ہر شئے کا مالک ہے وہ جو چاہتاہے کرتا ہے اور کر سکتاہے اور ہر شئے پر اس کا قبضہ ہے ۔ انسان کسی حاکم یا افسر کے ساتھ اپنا معاملہ صاف کرتاہے اور اس کو راضی کرتا ہے تو وہ اسے بہت سا فائدہ پہنچادیتا ہے ۔ کیا خدا تعالیٰ جو حقیقی حاکم اور مالک ہے اس کو نفع نہیں دے سکتا؟ مگر دُعا کا معاملہ ایسا نہیں کہ انسان دور سے گولی چلاوے اور چلا جائے بلکہ جس شخص سے دُعا کرانی چاہیئے اس کے ساتھ تعلق پیدا کرنا چاہیئے۔ دیکھو بازار میں آپ کو ایک شخص اتفاقیہ طور پر مل جاوے اور آپ اس کو پکڑلیں اور کہیں کہ تو میرا دوست بن جاتو وہ کس طرح دوست بن سکتاہے ؟ دوستی کے واسطے تعلقات کا ہونا ضروری ہے اور وہ رفتہ رفتہ ہو سکتے ہیں۔
ہم تو چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ تمام بنی نوع کے واسطے دل میں سچا درد پیدا ہو جاوے مگر یہ امر اپنے ہاتھ میں نہیں ، نہ اپنے واسطے ، نہ عزیز و اقارب کے واسطے ، نہ بیوی بچے کے واسطے ایسے درد کا پیدا ہونا محض خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔ لیکن تعلقات کا ہونا بہت ضروری ہے ۔
کہتے ہیں کہ کوئی شخص شیخ نظام الدین صاحب ولی اللہ کے پاس اپنے کسی ذاتی مطلب کے لئے دُعا کرانے کے واسطے گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے واسطے دودھ چاول لے آ۔ اس شخص کے دل میں خیال آیا کہ عجیب ولی ہے۔ میں اس کے پاس اپنا مطلب لے کر آیا ہوں تو اس نے میرے آگے اپنا ایک مطلب پیش کر دیا ہے مگر وہ چلا گیا اور دودھ چاول پکا کر لے آیا۔ جب وہ کھاچکے تو انہوں نے اس کے واسطے دُعا کی اور اس کی مشکل حل ہو گئی ۔ تب نظام الدین صاحب نے اس کو بتلایا کہ میں نے تجھ سے دودھ چاول اس واسطے مانگے تھے کہ جب تو