کو ہمارے وجود کا علم تک بھی نہ تھا بلکہ بہت کم لوگ تھے جن کو قادیان کے نام سے بھی اس وقت واقفیت ہوگی حتیٰ کہ ہماری طرف کسی کا خط تک بھی نہ آتا تھا اورہم ایک گمنامی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے ۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہواکہ یاتون من کل فج عمیق اوریاتیک من کل فج عمیق اورولاتصعر لخلق اللہ ولاتسئم من الناس اوربعض اس مضمون کے الہام زبان انگریزی میں بھی تھے ۔حالانکہ ہم زبان انگریزی سے بالکل نا آشنا ہیں اوریہ سب خبریں اس زمانہ کی ہیں جبکہ ان کے کچھ بھی آثار موجود نہ تھے اورہماری اس وقت کی حالت کو دیکھنے اورجاننے والے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس حالت میں ایسی خبروں کے امکان کا وہم وگمان بھی نہیں ہوسکتا تھا بلکہ ان الہامات کے بعد اندرونی اوربیرونی طورسے یعنی خود اپنی قوم بھی اور دیگر عیسائی اورہندو وغیرہ بھی سب دشمن ہوگئے مگر باوجود ان سب امور کے اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ ہمارے شامل حال رہی اوراس نے ایسی ایسی تائیدات کیں کہ اب اس وقت چارلاکھ یا اس سے بھی کچھ زیادہ انسان ہمارے ساتھ ہیں اوردوردراز سے آتے ہیں۔تحفے تحائف اور نقد وجنس جن کے وعدے خداتعالیٰ کے کلام میں کئے گئے تھے سب پورے ہوئے او ر ہورہے ہیں۔ پیشگوئیوں کو انکے تمام لوازم پیشگوئی کے وقت اورحالت سے دیکھنا چاہئیے اورپھر اسکا انجام دیکھنا چاہیئے کہ کس کروفر سے پوراہو ا ۔اگر کسی مفتری کے سوانح میں بھی اسکی نظیر ہے توپیش کرواگر ہماری اس پیشگوئی کے ماننے سے انکار ہے تو کوئی نظیر دوکہ بجز خداتعالیٰ کی تائید اور نصرت کے کسی مفتری نے بھی ایسا عروج پالیا ہو۔
حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا لڑکا عبدالسلام حضرت اقدس کے نزدیک کھڑا تھا ۔حضرت اقدس نے اس کا ہاتھ پکڑکر اسے انگریزوں کے روبر کیا اورفرمایا کہ :۔
ان کو سمجھایا جاوے کہ اگر مثلاً یہ لڑکا آج اس حالت میں پیشگوئی کرے کہ میں ستر برس کی عمر پائوں گایا لاکھوں انسان دوردراز کی راہوں سے میرے دیکھنے کے واسطے آئیں گے یا کوئی اور عظیم الشان انقلاب کی خبر دے توکیا ایسی پیشگوئیوں کی اس کی موجودہ حالت کے لحاظ سے کچھ وقعت کی جاوے گی ؟اورپھر اگر بالفرض جو کچھ اس نے اس حالت میں کہا ہووہ ایک وقت میں پورا ہوجاوے تواس وقت اس کو کوئی جھوٹا کہہ سکے گا ؟یاکسی کو یہ کہنے کا استحقاق ہوگا کہ یہ امر انسانی منصوبوں یا تدبیروں سے اسے حاصل ہوا ہے ؟
حضر ت اقدس ؑ کے اتنے بیان کے بعد انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اسے تسلیم کرتے ہیں کہ پیشگوئیاں ثبوت دعویٰ کی ایک دلیل ہوتی ہیں۔
سوال :۔ہم کوئی اوردلیل بھی سننا چاہتے ہیں۔