عاجز انسان ہے ۔تب ہم نے اس سے اس معاملہ میں خط وکتابت کی مگر وہ اپنے دعویٰ سے باز نہ آیا۔ آخر ہم نے خدا سے خبر پاکر اس کی ہلاکت اورنامرادی پیشگوئی کی ۔جو ہماری زندگی میں پوری ہونی ضروری تھی ۔چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا اور وہ پیشگوئی کے مطابق نہایت ذلت اورعذاب سے صاد ق کی زندگی میں ہی ہلاک ہوگیا۔اب کوئی غورکرنے والا دماغ اورمان لینے والا دل چاہئیے کہ اس میں غور کرے کہ آیا یہ پیشگوئی اس قابل ہے یاکہ نہیں کہ اس کو خداتعالیٰ کی طرف سے یقین کیا جاوے یاکیا یہ بھی کوئی انسانی منصوبہ ہے ۔ دوم۔ آپ لوگوں کا یہاں آنا بھی تو ہمارے واسطے ایک نشا ن ہے جواگر آپ کو اس کا علم ہوتا توشاید آپ یہاں آنے میں بھی مضائقہ اورتامل کرتے ۔اصل میں آپ لوگوں کا اتنے دوردراز سفر کرکے یہاں ایک چھوٹی سی بستی میں آنا بھی ایک پیشگوئی کے نیچے ہے اورہماری صداقت کے واسطے ایک نشان اوردلیل ہے کہاں امریکہ اورکہاں قادیان ۔مردے زندہ کرلینا توایک طرف دھرارہ گیا ایک کوڑھی (مجذوم) توصحتیاب ہونہ سکا اور اسے تو حضرت مسیح چنگا نہ کرسکے تومردے زندہ کرنا کیسا ؟وہ باتیں توہزاروں سال کی ہیں اور خداجانے ان میںکیا کچھ ملاوٹیں ہوگئی ہیں اور وہ توصرف قصے کہانیوں کے رنگ میں باقی رہ گئی ہیں ۔ ان کی صداقت کا کوئی نشان یا ان کے سچے ہونے کے کوئی آثار ہی پائے جاتے تو بھی ا ن کو مان لینے کی ایک راہ ہوتی ۔مگر وہ تواب باتیں ہی باتیں اورنر ے دعوے ہی دعوے ہیں۔ مگر ہم توآجکل کی موجودہ اورزندہ مثال پیش کرتے ہیں۔ سوال :۔ ڈوئی کے انجام کا تو ہر شخص انداز ہ لگاسکتا تھا کیونکہ اس نے ایک جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور یہ صاف بات ہے کہ جھوٹا مدعی ذلیل ہواکرتا ہے ۔ہم تو آپ کے دعویٰ کی عظمت کی وجہ سے یہاں آئے ہیں کہ اتنا بڑا دعویٰ کرنے والا انسان کیسا ہوگا نہ یہ کہ آپ کے واسطے نشان بننے کے واسطے آئے ہوں۔ جواب :۔فرمایا :۔ اگر ڈوئی کوآپ لوگ ایسا ہی سمجھتے تھے اورجانتے تھے کہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اورخداپر بہتان باندھ رہا ہے توپھر کیا اسی یقین سے آ پ لوگوں نے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپوں کے نذرانے اسے دیئے اوربیش قیمت تحائف اس کے واسطے دوردراز سے مہیا کئے ؟اوراس کی حد سے زیادہ عزت کی ؟حتیٰ کہ دس ہزا رسے بھی زیادہ لوگ اس کے مرید بن گئے ۔تعجب کی بات ہے کہ ایک انسان کو باوجود جھوٹا یقین کرنے کے بھی کوئی یہ عزت وعظمت دیتا ہو اور اپنا مال وجان اس پر نثار اورتصدق کرتا ہو۔ امر دوم کے لئے ان کو سنانا چاہیئے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ایک فرد واحد بھی ہمارا واقف نہ تھا اورکسی