ﷺ کے مردے زندہ کرنے کو روحانی رنگ میں مانتے ہیں نہ کہ جسمانی رنگ میں ۔اوراسی طرح حضرت عیسیٰؑ کا مردے زندہ کرنا بھی روحانی رنگ میں مانتے ہیں نہ کہ جسمانی طورپر ۔اوریہ امر کوئی حضرت عیسیٰؑ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بائیبل میں لکھا ہے کہ ایلیا نبی نے بھی بعض مردے زندہ کئے تھے بلکہ وہ حضرت عیسیٰؑ سے اس کام میں بہت بڑھے ہوئے تھے ۔اگر فرض محال کے طورپر ہم مان بھی لیں کہ بائیبل میں حضرت عیسیٰؑ کا حقیقی مردوں کے زندہ کرنے کاذکر ہے توپھر ساتھ ہی ایلیا نبی کو بھی خداماننا پڑے گا۔ اس میں حضرت عیسیٰ کی خدائی کی خصوصیت ہی کیا ہوئی ؟اورمابہ الامتیاز کیا ہوا ؟بلکہ یسعیاہ نی کے متعلق تویہاں تک بھی لکھا ہے کہ مردے ان کے جسم سے چھوجانے پر ہی زندہ ہوجایا کرتے تھے ۔ان باتوں سے جو کہ اس بائیبل میںدرج ہیں صاف شہادت ملتی ہے کہ مردوں کا زندہ کرنا حضرت مسیح کی خدائی کے واسطے کوئی دلیل نہیں ہوسکتا اوراگر اس کو دلیل مانا جاوے تو کیوں ان دوسرے لوگوں کو بھی جنہوں نے حضرت مسیح سے بھی بڑھ کر یہ کام کیا خدانہ مانا جاوے اورخدائی کا خاصہ صرف حضرت مسیح کی ذات تک ہی محدود مخصوص رکھا جاوے ؟ بلکہ ہمارے خیال میں توحضرت موسیٰ کا سوٹے کا سانپ بنانے کا معجزہ مردے زندہ کرنے سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ مردہ کو زندہ سے ایک تشبیہ اورلگائو بھی ہے کیونکہ وہی چیز ابھی زندہ تھی اورمردے میں زندہ ہونے کی ایک استعدا د خیال کی جاسکتی ہے ۔مگر سانپ کو سوٹے سے کوئی بھی نسبت اور تعلق نہیں ہے وہ ایک نبات کی قسم کی چیز اور وہ سانپ ۔تو یہ سوٹے کا سانپ بن جانا تومردوں کے زند ہوجانے سے نہایت ہی عجیب بات ہے ۔لہٰذا حضرت موسیٰ ؑ کو بڑا خداماننا چاہیئے ۔ مگر حقیقی اور اصلی بات یہ ہے کہ ہم حقیقی مردوں کی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔
سوال :۔حضرت مسیح ازلی ابدی ہیں اور و ہ اب بھی زندہ ہیں اوراس وقت خداکے دہنے ہاتھ بیٹھے ہیں۔ ان کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس میں یہ خاصے پائے جاتے ہیں۔
جواب :۔ہم قطعی طورسے انکار کرتے ہیں کہ کوئی حقیقی مردے بھی زندہ کرسکتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے
فیمسک التی قضی علیھا الموت ۔الخ(الذمر :۴۳)
باقی رہے آپ کے دعوے سوہم ان کو بغیر کسی دلیل کے قبول نہیں کرسکتے ۔مردوں کے زندہ کرنے کے ساتھ ان کا خود ازلی ابدی ہونا اور اب زندہ اورخداکے دہنے ہاتھ بیٹھے ہونا بھی آپ کے دعویٰ ہیں جن کی کوئی دلیل آپ نے پیش نہیںکی اوردلیل کی جگہ ایک اوردعویٰ پیش کردیا ۔
حضرت عیسیٰؑ کو بھی ہم اورانبیاء کی طرح خداتعالیٰ کا ایک نبی یقین کرتے ہیں ۔ہم مانتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی راہ میں صدق اوراخلاص رکھنے والے لوگ خداتعالیٰ کے مقرب ہوتے ہیں ۔ جس طرح خداتعالیٰ نے اپنے